18 جولائی 2025 | کراچی
پاکستان کی خوردنی تیل کی صنعت ایک سنگین بحران کے دہانے پر کھڑی ہے، جہاں پاکستان وانسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PVMA) نے ملک بھر کی گھی ملز کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ یہ صورتحال فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی جانب سے گھی ملز میں ٹیکس افسران کی تعیناتی پر پیدا ہونے والے تنازعے کے بعد سامنے آئی ہے، جسے صنعت کے رہنماؤں نے آپریشنز میں مداخلت اور خوف و ہراس پھیلانے کا سبب قرار دیا ہے۔
پی وی ایم اے کے صدر عمر ریحان شیخ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر جمعہ تک ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو گھی اور کوکنگ آئل کی سپلائی پورے ملک میں بند کر دی جائے گی۔ "یہ ہڑتال چند گھنٹوں یا ایک دن کی نمائشی کارروائی نہیں ہوگی، بلکہ غیر معینہ مدت کے لیے مکمل بندش ہوگی،” انہوں نے کہا۔
خطرے کی گھنٹی
اس اعلان نے تاجروں، صارفین اور معیشت کے ماہرین میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ گھی اور تیل کی فراہمی میں کسی بھی قسم کا تعطل قیمتوں کو فوری طور پر اوپر کی جانب دھکیل سکتا ہے — خاص طور پر ایسے وقت میں جب مہنگائی پہلے ہی عوام کی کمر توڑ رہی ہے۔
ایک ممکنہ بندش ان دو بنیادی اشیائے خور و نوش کی فراہمی کو مفلوج کر سکتی ہے، جو تقریباً ہر پاکستانی گھرانے میں روزانہ استعمال ہوتی ہیں۔ ایک صنعت کار نے خبردار کیا، "اس کا بوجھ بالآخر عام صارف پر ہی پڑے گا۔ فیکٹریوں کی بندش صرف وہیں تک محدود نہیں رہتی، اس کے اثرات ہر گھر، دکان اور ہوٹل تک پہنچتے ہیں۔”
تنازعہ کی جڑ
یہ تنازعہ ایف بی آر کی جانب سے سیلز ٹیکس ایکٹ کی دفعہ 40B کے تحت گھی ملز میں افسران کی تعیناتی پر پیدا ہوا ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ یہ اقدام حد سے زیادہ سخت اور کاروبار مخالف ہے۔ عمر ریحان شیخ کے مطابق، ایف بی آر کے اہلکاروں کی موجودگی نے ملز کے اندر خوف کی فضا پیدا کر دی ہے، جس سے یومیہ سرگرمیاں اور کارکنان کا حوصلہ متاثر ہو رہا ہے۔
پی وی ایم اے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دفعہ 37A، ڈیجیٹل انوائسنگ کی شرط، اور بینک اکاؤنٹ میں دو لاکھ روپے کی کم از کم رقم کی شرط کو بھی فوری طور پر ختم کیا جائے۔ "کاروبار دوست ماحول پیدا کرنے کے بجائے، ہمیں دیوار سے لگایا جا رہا ہے،” انہوں نے کہا۔
مذاکرات یا محاذ آرائی؟
اس تناؤ کے باوجود، ایک پرامن حل کی امید ابھی باقی ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے صدر پہلے ہی وزیر خزانہ سے ملاقات کر چکے ہیں تاکہ صنعت کے تحفظات ان تک پہنچائے جا سکیں۔ تاہم، مذاکرات کے نتائج ابھی غیر یقینی ہیں — اور وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔
شیخ نے ایک بار پھر کہا، "اگر جمعہ تک کوئی نتیجہ نہ نکلا تو ہم مجبوراً کارروائی کریں گے۔ یہ فیصلہ ہم خوشی سے نہیں کر رہے، لیکن ہمارے پاس اب اور کوئی راستہ نہیں بچا۔”
صارفین کی بے چینی اور مہنگائی کا خطرہ
مہنگائی کے پہلے سے دباؤ میں آئے ہوئے عوام اب ایک اور ممکنہ جھٹکے کے دہانے پر کھڑے ہیں — اس بار نشانہ گھی اور کوکنگ آئل ہے، جو ہر گھر کی بنیادی ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ بحران طول پکڑ گیا، تو اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا، اور ذخیرہ اندوزی و بلیک مارکیٹ کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
کراچی کے ایک دکاندار کے مطابق، کچھ صارفین پہلے ہی اضافی گھی اور تیل خریدنے لگے ہیں۔ "لوگوں کو یاد ہے کہ پچھلی بار جب قلت ہوئی تھی تو قیمتیں دو دن میں دگنی ہو گئی تھیں،” انہوں نے بتایا۔
بڑا منظرنامہ
یہ صورتحال اس بڑے مسئلے کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ ٹیکس کے نفاذ اور معاشی استحکام کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے۔ حکومت جہاں محصولات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے، وہیں صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ ایسی سخت پالیسیاں کاروباری اعتماد کو مجروح کر سکتی ہیں اور صنعتی ترقی کو روک سکتی ہیں۔ اب فیصلہ حکومت کے ہاتھ میں ہے — بات چیت کی میز پر بیٹھنا یا صنعتی دروازے بند کر دینا۔ جو بھی قدم اٹھایا جائے، اس کے اثرات براہِ راست پاکستانی عوام کی روزمرہ زندگی پر مرتب ہوں گے