حکومت کی توجہ ویلیو ایڈیشن، بنیادی ڈھانچے میں بہتری اور پروازوں میں اضافہ پر مرکوز
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کہا ہے کہ اگر گوادر بندرگاہ میں مستقل سرمایہ کاری، بہتر پالیسی سازی اور جدید بنیادی ڈھانچے کو یقینی بنایا جائے تو یہاں سے ویلیو ایڈڈ مچھلی اور کھجوروں کی برآمدات کے ذریعے سالانہ 85 کروڑ ڈالر تک کا زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
یہ بات انہوں نے گوادر بندرگاہ کی عملی فعالیت کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، جس میں وزارت بحری امور کے اعلیٰ حکام کے علاوہ گوادر پورٹ اتھارٹی، وزارت تجارت، صنعت اور مواصلات کے نمائندگان نے بھی شرکت کی — کئی افراد نے زوم کے ذریعے آن لائن شرکت کی۔
وفاقی وزیر نے اجلاس میں گوادر کی معیشت کو فعال بنانے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی پیش کی، جس میں مقامی وسائل سے فائدہ اٹھانے، مقامی کاروباروں کو بااختیار بنانے، برآمدات میں ویلیو ایڈیشن، اور روابط کی بہتری کو مرکزی حیثیت دی گئی۔
انہوں نے زور دیا کہ گوادر کی معیشت کی بنیاد مچھلی اور کھجور کے دو اہم شعبوں پر ہے، جنہیں بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید بنانے کی اشد ضرورت ہے۔
"گوادر کے سمندر میں مچھلی کی بہت بڑی مقدار پائی جاتی ہے، مگر ہم اسے صرف خام شکل میں بیچ دیتے ہیں، جو ایک بہت بڑا نقصان ہے۔ اگر ہم اس میں پراسیسنگ، پیکجنگ اور برانڈنگ شامل کریں تو فائدہ کئی گنا بڑھایا جا سکتا ہے،” وزیر موصوف نے کہا۔
انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں اس وقت 34 فش پروسیسنگ یونٹس کام کر رہے ہیں، لیکن ان میں سے بیشتر میں جدید ٹیکنالوجی کی کمی ہے اور وہ برآمدی معیار پر پورا نہیں اُترتے۔ "اگر ان یونٹس کو اپ گریڈ کر دیا جائے تو پاکستان عالمی سمندری خوراک کی مارکیٹ میں مضبوط مقام حاصل کر سکتا ہے،” انہوں نے کہا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کے کل ساحلی علاقے کا تقریباً 76 فیصد بلوچستان میں واقع ہے اور وہاں سالانہ تین لاکھ ٹن مچھلی پکڑنے کی گنجائش موجود ہے، مگر اس وقت صرف نصف پیداوار ہی حاصل کی جا رہی ہے، جس کی بڑی وجہ پرانی ٹیکنالوجی، کمزور ماہی گیری کے وسائل اور غیر مؤثر قوانین ہیں۔ اگر ان رکاوٹوں کو دور کر کے ویلیو ایڈیشن پر توجہ دی جائے تو صرف مچھلی کا شعبہ سالانہ 64 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک کی برآمدات دے سکتا ہے۔
کھجور کے شعبے پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پنجگور اور تربت (کیچ) کے علاقے سالانہ دو لاکھ پچیس ہزار ٹن سے زائد کھجور پیدا کرتے ہیں، جو ملک کی مجموعی پیداوار کا نصف سے بھی زیادہ ہے۔ "اگر اس میں پراسیسنگ اور برانڈنگ کا عنصر شامل کیا جائے تو یہ شعبہ سالانہ 20 سے 20.5 کروڑ ڈالر تک کی آمدن دے سکتا ہے،” انہوں نے واضح کیا۔
گوادر کی رسائی کو بہتر بنانے کے حوالے سے وزیر نے بتایا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (PIA) اپنی گوادر کے لیے پروازوں کی تعداد بڑھا کر ہفتہ وار ایک سے تین کرنے جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ سرمایہ کاروں کے لیے ایک خصوصی چارٹرڈ فلائٹ سروس پر بھی غور جاری ہے۔
"یہ صرف برآمدات بڑھانے کا معاملہ نہیں، بلکہ مقامی افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، چھوٹے کاروباروں کو مضبوط کرنے، اور گوادر کو وہ معاشی مقام دلانے کی بات ہے جو اسے بہت پہلے مل جانا چاہیے تھا،” وزیر نے کہا۔