کراچی: میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ بارشوں سے متاثرہ 106 سڑکوں کی ازسرِنو تعمیر اور بحالی کا کام کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے تحت شروع کر دیا گیا ہے، جو آئندہ 60 روز میں مکمل کر لیا جائے گا۔
کورنگی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میئر نے بتایا کہ رواں سال کے ترقیاتی بجٹ میں شہری سہولتوں کے لیے 28 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ شہر کے مجموعی منصوبوں کی مالیت 400 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے مخالفین پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "کچھ لوگ صبح 11 بجے جاگ کر صرف پریس کانفرنس کرتے ہیں اور عوام میں مایوسی پھیلاتے ہیں، جبکہ ہم دن رات شہر کے لیے کام کر رہے ہیں۔”
مرتضیٰ وہاب نے کہا: "ہم اسلام آباد میں بیٹھے نہیں، بلکہ کراچی کے عوام کے درمیان موجود ہیں اور ان کی خدمت کر رہے ہیں۔”
انہوں نے بڑے منصوبوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ کے فور واٹر پراجیکٹ پر 70 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ مرغی خانہ، شاہ فیصل کالونی اور کیٹل کالونی میں پلوں کی تعمیر بھی جاری ہے۔ آئی سی آئی برج پر بھی جلد کام شروع کیا جائے گا۔
میئر نے مہنگے پکے بلاکس لگانے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ ڈرینیج مسائل کا دیرپا حل ہے۔ "پیسہ مسئلہ نہیں، اصل مسئلہ نیت کا ہے۔ صرف باتوں سے شہر نہیں بنتے، عملی اقدامات کرنا پڑتے ہیں،” انہوں نے کہا۔
انہوں نے بتایا کہ سڑکوں کی مرمت کا کام مختلف اضلاع میں پہلے ہی شروع ہو چکا ہے اور کے ایم سی کی ٹیمیں رات گئے تک کام کر رہی ہیں۔ "جب لوگ صبح اُٹھیں گے تو انہیں نئی سڑکیں ملیں گی۔ رات کے دو بجے بھی ہمارا عملہ موقع پر کام کر رہا ہوتا ہے اور جہاں کام ہو رہا ہو، میں خود جاکر معائنہ کرتا ہوں،” انہوں نے کہا۔
اسی روز وہاب نے صدر میں ایمپریس مارکیٹ کا دورہ کیا اور شاہراہِ لیاقت کی تعمیراتی کاموں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایمپریس مارکیٹ، پریڈی اسٹریٹ اور شارع فیصل پر بھی کام شروع ہو چکا ہے جبکہ ملیر کالا بورڈ اور کھوکھراپار میں نئی سڑکیں مکمل ہو چکی ہیں۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ اگر کہیں غفلت دیکھیں تو انتظامیہ کو فوری اطلاع دیں۔ "ہم کراچی کے عوام کو جوابدہ ہیں اور شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،” انہوں نے یقین دلایا۔
میئر نے کہا کہ کے ایم سی اپنی حدود سے باہر بھی منصوبے مکمل کر رہی ہے، جن میں ماڈل کالونی ٹاؤن کی سڑکیں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیوریج کے نئے منصوبے کی بنیاد بھی اگلے ہفتے رکھی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ بڑے طبی اداروں، جیسے انڈس اسپتال، ایس آئی یو ٹی اور این آئی سی وی ڈی کو بھی فنڈز دیے جا رہے ہیں تاکہ شہریوں کو بہتر صحت سہولتیں میسر ہوں۔
میئر کراچی نے کہا: "میں فخر سے کہتا ہوں کہ میں مہاجر ہوں۔ کراچی کے لوگ میرے اپنے لوگ ہیں۔ ہمیں منفی سیاست سے گریز کرنا چاہیے اور سب کو شہر کی ترقی کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔”
کے ایم سی انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے عملے نے میئر کو جاری منصوبوں کی رفتار اور دائرہ کار پر تفصیلی بریفنگ دی اور یقین دلایا کہ تمام کام مقررہ وقت میں مکمل کر لیے جائیں گے۔