صحت رپورٹر
کینسر سیلز کس طرح مدافعتی نظام سے بچ نکلتی ہیں، اس پر تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے ایک غیر متوقع دریافت کی ہے — جو اب ٹائپ 1 ذیابیطس کے علاج کی نئی امید بن کر سامنے آئی ہے۔ امریکہ کی مشہور میو کلینک کے محققین نے ایک نئی تکنیک دریافت کی ہے جسے "شوگر کوٹنگ” کہا جا رہا ہے، اور ابتدائی نتائج نہایت حیرت انگیز ہیں۔
اس انقلابی دریافت کا مرکز ایک شوگر مالیکیول ہے جسے "سیالک ایسڈ” کہا جاتا ہے۔ اس مالیکیول کو کینسر کے خلیے مدافعتی نظام سے بچنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مشہور امیونولوجسٹ ڈاکٹر ورجینیا شیپیرو کی سربراہی میں محققین اسی تکنیک کو سمجھنے کے لیے تحقیق کر رہے تھے — مگر دوران تحقیق ایک نیا خیال سامنے آیا: کیا اگر یہی شوگر کوٹنگ صحت مند خلیات کو بچانے میں بھی مدد دے سکے، خاص طور پر ان بیماریوں میں جہاں جسم خود اپنے خلیات کو نشانہ بناتا ہے، جیسے کہ ٹائپ 1 ذیابیطس؟
جسم کے مدافعتی نظام کو "دھوکہ دینا”
تحقیق کے دوران، ماہرین نے لبلبے کے اُن بیٹا سیلز کو، جو انسولین پیدا کرتے ہیں اور ذیابیطس میں تباہ ہو جاتے ہیں، اس طرح تبدیل کیا کہ وہ ST8Sia6 نامی ایک اینزائم پیدا کرنے لگیں۔ یہ اینزائم سیالک ایسڈ کی مقدار خلیے کی سطح پر بڑھا دیتا ہے — جس سے یہ خلیات گویا ایک میٹھی تہہ میں لپٹ جاتے ہیں، اور مدافعتی نظام انہیں معمول کے خلیات سمجھ کر چھوڑ دیتا ہے۔
اور حیرت انگیز بات یہ کہ یہ طریقہ کامیاب رہا۔
جانوروں پر کیے گئے تجربات میں، جو انسانی ذیابیطس کی صورتحال سے قریب تر تھے، یہ تبدیل شدہ بیٹا سیلز 90 فیصد تک کامیابی سے مدافعتی حملے سے محفوظ رہے۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ جسم کا باقی مدافعتی نظام معمول کے مطابق کام کرتا رہا — صرف ان "شوگر کوٹڈ” بیٹا سیلز کو نشانہ بنانا چھوڑ دیا گیا۔
"ہم نے مدافعتی نظام کو بند نہیں کیا، بلکہ اسے یہ سکھایا کہ وہ بیٹا سیلز کو نظر انداز کرے،” یہ کہنا تھا تحقیق کے مرکزی مصنف اور میو کلینک کے ایم ڈی-پی ایچ ڈی طالبعلم جسٹن چوے کا۔
انسولین سے آگے کی اُمید
ٹائپ 1 ذیابیطس میں مبتلا لاکھوں افراد روزانہ انسولین کے انجیکشنز کے سہارے زندگی گزارتے ہیں۔ بعض افراد لبلبے کے خلیات کا ٹرانسپلانٹ بھی کرواتے ہیں، لیکن اس کے لیے پورے مدافعتی نظام کو دبانا پڑتا ہے، جو مریض کو دیگر بیماریوں کے لیے کمزور بنا دیتا ہے۔
نئی شوگر کوٹنگ تکنیک ممکنہ طور پر ایک ایسا راستہ فراہم کر سکتی ہے جس میں صرف ان مخصوص خلیات کو تحفظ دیا جا سکے — بغیر اس کے کہ پورا مدافعتی نظام متاثر ہو۔ اگرچہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، مگر اس کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ڈاکٹر شیپیرو کہتی ہیں، "یہ دریافت نہ صرف خودکار مدافعتی بیماریوں کو سمجھنے میں مدد دے گی، بلکہ علاج کے ایسے محفوظ طریقے بھی ممکن بنا سکتی ہے جو مریضوں کی زندگی کا معیار بہتر کر دیں۔”
کینسر سے علاج تک
ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ ایک بیماری پر ہونے والی تحقیق، کسی دوسری بیماری کے لیے امید کی کرن بن جائے۔ مگر یہ دریافت سائنسی تحقیق کی اُس خوبصورتی کو ظاہر کرتی ہے — کہ علم کا ایک دروازہ کھلتا ہے تو وہ کئی اور راہیں بھی روشن کر دیتا ہے۔
اگر آنے والے تجربات بھی ان نتائج کی تصدیق کرتے ہیں، تو یہ "شوگر شیلڈ” تکنیک ٹائپ 1 ذیابیطس کے لیے سب سے مؤثر اور انقلابی دریافت بن سکتی ہے۔