کیا پاکستان کو چین کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے؟

اسلام آباد:
پاکستان اور چین کے تعلقات کو ہمیشہ "ہمالیہ سے بلند اور سمندروں سے گہرا” قرار دیا گیا ہے۔ یہ رشتہ کئی دہائیوں پر محیط ہے اور اس کے مختلف پہلو ہیں، جن میں سکیورٹی، دفاع، سفارتکاری اور معیشت سرفہرست ہیں۔ ان میں سے دفاعی اور سفارتی تعلقات سب سے زیادہ مضبوط اور کامیاب نظر آتے ہیں، جو جغرافیائی حکمتِ عملی، سیاسی تقاضوں اور مشترکہ اقدار پر مبنی ہیں۔ صدر شی جن پنگ کے بقول، ان بنیادوں پر کھڑا یہ رشتہ برادرانہ اور مضبوط ہے، جو ہر طوفان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

لیکن جب بات معیشت کی آتی ہے تو تصویر کچھ پیچیدہ دکھائی دیتی ہے۔ دہائیوں پر محیط تجارتی معاہدوں اور منصوبوں کے باوجود پاکستان سیاسی گرم جوشی کو پائیدار معاشی فوائد میں بدلنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ یہی خلا مخالف قوتوں کو پراپیگنڈہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) جیسا بڑا منصوبہ اپنی اصل توقعات پوری کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔

معاہدوں کی تاریخ، مگر کمزور عملدرآمد

اسلام آباد اور بیجنگ کے درمیان معاشی تعاون کی تاریخ پرانی ہے۔ 1963 کا بارٹر ٹریڈ معاہدہ، 1966 کا مشینری و ٹیکنیکل سپورٹ معاہدہ، اور 1985 کا بارڈر ٹریڈ معاہدہ اس کی بنیادیں رکھتے ہیں۔ اس کے بعد ہواوے، زونگ اور ہائر جیسی چینی کمپنیوں نے پاکستان میں قدم رکھا۔ سی پیک کو تو پاکستان کی معیشت کو نئی سمت دینے والا منصوبہ قرار دیا گیا تھا۔

مگر عملی نتائج مایوس کن رہے۔ اب تک پاکستان صرف 28 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کر پایا ہے، جو موجودہ مواقع کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔ اصل مسئلہ کمزور عملدرآمد رہا۔ یادداشتوں پر دستخط ہوئے مگر منصوبے آگے نہ بڑھے۔ سی پیک کے دوسرے مرحلے کے تحت قائم کیے جانے والے خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) تاحال ادھورے ہیں اور ایک دہائی گزرنے کے باوجود صرف دو زونز ہی عملی شکل اختیار کر پائے ہیں۔

چین کے بدلتے کردار کو نظر انداز کرنا

پاکستان کی ایک بڑی کمزوری یہ بھی رہی کہ اس نے چین کی بدلتی ہوئی عالمی حیثیت کو پوری طرح نہیں سمجھا۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں چین کو عالمی سطح پر پاکستان کے تعاون کی ضرورت تھی، لیکن آج چین ایک معاشی و تجارتی طاقت ہے جس کی ترجیحات مختلف ہیں۔

بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کا بھی نیا مرحلہ شروع ہو چکا ہے، جس میں بڑے منصوبوں کے بجائے چھوٹے مگر براہِ راست عوامی فائدے کے حامل پراجیکٹس کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ چین کے ترقیاتی بینک اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک نے تقریباً 49 ارب ڈالر ایسے منصوبوں کے لیے مختص کیے ہیں۔ اس نئے رجحان کے مطابق پاکستان کو اپنی حکمتِ عملی پر نظرثانی کرنا ہوگی۔

اصلاح کی ضرورت

ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں پاکستان کو چین کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مکمل طور پر ازسرِنو ترتیب دینے کے بجائے ان میں اصلاح اور بہتری کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے دو اہم اقدامات ناگزیر ہیں: اول، وہی پیشہ ورانہ سنجیدگی اپنانا جو دفاعی اور سفارتی تعلقات کی کامیابی کی بنیاد بنی۔ دوم، ایسے ماہرین کی ٹیم تیار کرنا جو چینی معیشت، پالیسی اور ترجیحات کو گہرائی سے سمجھ سکے۔

یہ جائزہ کئی نکات پر مشتمل ہونا چاہیے:

  • 1978 کے بعد چین کی معاشی اصلاحات نے اس کے عالمی تعاون کے طریقے کس طرح بدلے۔
  • بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں سی پیک کی اصل حیثیت اور پاکستان کا مقابلہ دیگر 150 سے زائد رکن ممالک سے کیسے کیا جا سکتا ہے۔
  • پاکستانی اور چینی کاروباری اداروں کے درمیان عدم توازن، اور یہ کہ کیا پاکستانی سرکاری ادارے اس خلا کو پُر کر سکتے ہیں۔

چین کو بھی پاکستان کی معاشی مشکلات، دہشت گردی کے دوبارہ سر اٹھانے اور عالمی دباؤ جیسے چیلنجز کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ ایسے حالات میں سخت معاشی اصولوں کے بجائے زیادہ لچکدار رویہ ہی دیرپا شراکت داری کی ضمانت دے سکتا ہے۔

آگے کا راستہ

پاکستان اور چین کے دفاعی و سفارتی تعلقات مثالی ہیں، مگر معاشی تعاون ابھی تک ان توقعات پر پورا نہیں اترا۔ یہی وجہ ہے کہ منفی پراپیگنڈہ جگہ بنا پاتا ہے۔ اگر پاکستان کو سی پیک کی اصل صلاحیت کو اجاگر کرنا ہے تو اسے وعدوں سے نکل کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔

دوستی اپنی جگہ قائم ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے: کیا پاکستان سیاسی گرمجوشی کو عملی معاشی نتائج میں بدل پائے گا؟

More From Author

ترسیلات پر سبسڈی: پاکستان کو برآمدات پر توجہ دینے کی ضرورت

کراچی میں تین خواجہ سراؤں کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے