25 جولائی 2025 – اسلام آباد
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان شدید سرحدی جھڑپوں کا دوسرا دن بھی خونریزی، تباہی اور سیاسی کشیدگی کے ساتھ جاری رہا۔ بنکاک نے عالمی سطح پر پیش کی جانے والی ثالثی کی تمام کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ مسئلے کا حل صرف براہِ راست دو طرفہ بات چیت سے ممکن ہے — وہ بھی اُس وقت جب کمبوڈیا پہلے حملے بند کرے۔
اب تک کم از کم 16 شہری ان جھڑپوں میں جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ صرف تھائی لینڈ کی طرف سے ایک لاکھ سے زائد افراد کو سرحدی علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ یہ حالیہ تصادم گزشتہ ایک دہائی کے دوران دونوں ممالک کے درمیان بدترین تنازعے میں شمار کیا جا رہا ہے۔
جمعرات کو تھائی ایئر فورس نے کمبوڈیا کے اندر ایک فوجی ہدف کو نشانہ بنایا — یہ کارروائی اُس کے جواب میں کی گئی جب متنازع مندر کے قریب سے کمبوڈین فوج نے توپخانے سے شدید گولہ باری شروع کی۔
تھائی فوج کے مطابق، کمبوڈیا نے روسی ساختہ BM-21 راکٹ لانچرز سمیت بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا، جس پر تھائی فوج نے "صورتحال کے مطابق مناسب ردعمل” دیا۔
ثالثی کی پیشکشیں مسترد
حالات کی نزاکت کے پیش نظر امریکہ، چین اور آسیان (ASEAN) کے موجودہ چیئرمین، ملائیشیا، نے ثالثی کی پیشکش کی، لیکن تھائی لینڈ نے ان تجاویز کو شکریے کے ساتھ مسترد کر دیا۔
تھائی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نکورنڈیج بلانکورا نے رائٹرز کو بتایا، “ہم تمام ممالک کی تشویش کو سراہتے ہیں، لیکن فی الحال ہمیں کسی تیسرے ملک کی ثالثی کی ضرورت نہیں ہے۔”
تھائی لینڈ کا مؤقف ہے کہ جب تک کمبوڈیا مکمل طور پر گولہ باری بند نہیں کرتا، کسی بھی قسم کی بات چیت ممکن نہیں۔ موجودہ کشیدگی کی بنیاد اُس واقعے پر رکھی گئی تھی جب مئی میں ایک کمبوڈین فوجی ایک سرحدی جھڑپ میں ہلاک ہوا، جس کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سفیروں کو نکال دیا اور فوجی نقل و حرکت بڑھا دی۔
ایک صدی پرانا تنازعہ
اس تمام تنازعے کی جڑ ایک صدی پرانے سرحدی تنازعے میں ہے۔ 817 کلومیٹر طویل سرحد پہلی بار 1907 میں فرانسیسی نوآبادیاتی دور میں نقشہ بندی کے ذریعے طے کی گئی تھی، جس میں فطری پہاڑی دھاروں کو حد بندی کا معیار بنایا گیا۔ تھائی لینڈ نے وقت گزرنے کے ساتھ اس نقشے کو چیلنج کرنا شروع کر دیا، خاص طور پر وہ علاقے جو تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے حساس ہیں۔
سال 2000 میں دونوں ممالک نے ایک مشترکہ بارڈر کمیشن تشکیل دیا تاکہ ان دعووں کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے، لیکن کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی۔ 2008 میں کمبوڈیا کی جانب سے پرِیہ ویہیر (Preah Vihear) مندر کو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرانے کی کوشش نے حالات کو مزید بگاڑ دیا، اور 2011 میں دونوں ممالک کے درمیان ایک ہفتے تک جاری رہنے والی شدید توپخانی کا سبب بنی۔
2013 میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف نے کمبوڈیا کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے مندر کے ارد گرد کے علاقے کو اس کی ملکیت قرار دیا اور تھائی افواج کو وہاں سے نکلنے کا حکم دیا، مگر اس کے باوجود کشیدگی کی آگ ٹھنڈی نہ ہو سکی۔
تازہ ترین محاذ آرائی
حالیہ تصادم کا آغاز جمعرات کی صبح ایک اور قدیم مندر کے قریب جھڑپ سے ہوا، جس نے جلد ہی کم از کم چھ مختلف مقامات پر گولہ باری میں شدت اختیار کر لی — یہ مقامات ایک دوسرے سے تقریباً 209 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔
ایک المناک واقعے میں ایک تھائی فوجی بارودی سرنگ پھٹنے سے اپنے جسم کا ایک حصہ کھو بیٹھا، جس پر تھائی حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے کمبوڈیا کے سفیر کو ملک بدر کر دیا، جب کہ کمبوڈیا نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے جواب میں تھائی لینڈ پر پہل کا الزام عائد کیا۔
اب تک دستیاب اطلاعات کے مطابق، مرنے والے زیادہ تر افراد تھائی شہری ہیں، جبکہ کمبوڈین ہلاکتوں کی تفصیلات تاحال واضح نہیں ہو سکیں۔
خطے پر اثرات
یہ تنازعہ ایسے وقت میں شدت اختیار کر رہا ہے جب پورا جنوب مشرقی ایشیا پہلے ہی سفارتی و تزویراتی دباؤ کا شکار ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ کشیدگی فوری طور پر نہ تھمی تو نہ صرف آسیان اتحاد کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، بلکہ عالمی طاقتیں بھی اس صورتحال کا فائدہ اٹھا کر خطے میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کریں گی۔
فی الحال، تھائی لینڈ اپنے مؤقف پر قائم ہے: جب تک جنگ بندی نہیں ہوگی، مذاکرات بھی نہیں ہوں گے۔ دوسری جانب، کمبوڈیا بین الاقوامی برادری سے مداخلت کی اپیل کر رہا ہے۔
دونوں ممالک تاریخی، ثقافتی اور لسانی رشتوں میں جڑے ہونے کے باوجود سیاسی اور جغرافیائی تنازعات کی اس آگ میں پھنس چکے ہیں — اور امن ایک بار پھر دور کی چیز نظر آ رہا ہے۔