کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر پر رینجرز اہلکار کا مبینہ تشدد

اساتذہ تنظیم کا سخت ردعمل، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

کراچی – 17 جولائی 2025:
کراچی یونیورسٹی کے ایک سینئر پروفیسر پر رینجرز اہلکار کی مبینہ زیادتی نے اساتذہ برادری کو شدید غصے میں مبتلا کر دیا ہے، جب کہ جامعہ کے تدریسی عملے کی سیکیورٹی پر سنجیدہ سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ واقعہ دو روز قبل یونیورسٹی کی رہائشی کالونی "اسٹاف ٹاؤن” میں پیش آیا، جب پروفیسر ڈاکٹر آفاق احمد صدیقی نے رینجرز اہلکار کو اپنے گھر کے سامنے کچرا جلانے سے منع کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے اہلکار سے شکایت کی کہ دھواں سانس لینے میں دشواری پیدا کر رہا ہے۔

بحث و تکرار کے دوران بات تلخ کلامی سے آگے بڑھ گئی اور اہلکار نے مبینہ طور پر پروفیسر کو تھپڑ مار دیا۔ چشم دید گواہوں کے مطابق اس تھپڑ سے ڈاکٹر آفاق کے چشمے ٹوٹ گئے اور ان کی آنکھ کے قریب چوٹ بھی آئی۔

واقعے کے بعد قریبی رہائشی افراد جمع ہو گئے اور یونیورسٹی انتظامیہ کو اس واقعے سے مطلع کیا۔

بدھ کے روز کراچی یونیورسٹی ٹیچرز سوسائٹی (KUTS) نے ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ "ایک معزز استاد کے ساتھ اس نوعیت کا سلوک ناقابل برداشت اور ناقابل معافی ہے۔”

KUTS کے بیان میں مزید کہا گیا:
"یونیورسٹی جیسے علمی ادارے میں خوف کے بجائے احترام، آزادی اور تحفظ کا ماحول ہونا چاہیے۔ اگر اساتذہ خود غیر محفوظ محسوس کریں گے تو تعلیمی ماحول کس طرح قائم رکھا جا سکے گا؟”

اساتذہ تنظیم نے جمعرات کے روز اس معاملے پر ایک ہنگامی اجلاس بلانے کا اعلان کیا ہے، جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ KUTS نے واضح کیا ہے کہ واقعے میں ملوث اہلکار کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم اساتذہ اور طلبہ کی جانب سے شفاف تحقیقات اور فوری انصاف کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

یہ واقعہ تعلیمی اداروں میں تعینات سیکیورٹی فورسز کے کردار اور اختیارات کے دائرے پر ایک بار پھر بحث کو جنم دے رہا ہے۔

فی الوقت پولیس میں کوئی باقاعدہ ایف آئی آر درج نہیں کرائی گئی، تاہم KUTS نے عندیہ دیا ہے کہ اگر انتظامیہ نے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ کی تو قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔

 

More From Author

آئی ایم ایف کے اعتراضات کے باوجود حکومت کا نیا شوگر ایکسپورٹ معاہدہ

ایبٹ آباد میں دماغی رسولی کا کامیاب آپریشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے