کراچی – 7 اگست 2025
کراچی کے لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں جمعرات کو علی الصبح ایک گارمنٹس فیکٹری میں اچانک خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں پانچ منزلہ عمارت کا ایک حصہ منہدم ہو گیا اور کم از کم سات افراد زخمی ہو گئے۔
عینی شاہدین اور ریسکیو حکام کے مطابق، آگ لگنے کے فوراً بعد اس کی شدت میں تیزی سے اضافہ ہوا، جس نے پوری عمارت کو لپیٹ میں لے لیا۔ اندر سے وقفے وقفے سے دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دیتی رہیں، جب کہ دھوئیں کے گہرے بادل آسمان کی طرف بلند ہوتے دکھائی دیے۔
فائر بریگیڈ نے آگ کو تیسرے درجے کی آگ قرار دیا — جو کہ سب سے سنگین نوعیت کی درجہ بندی ہوتی ہے۔ امدادی کارروائیوں کے لیے کم از کم 16 فائر ٹینڈرز اور دو واٹر باؤزرز موقع پر روانہ کیے گئے، تاہم عمارت کی کمزور ہوتی ہوئی حالت اور چھت کے حصوں کے گرنے سے امدادی کاموں میں شدید مشکلات پیش آئیں۔
واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے، جس میں مرد و خواتین ملازمین کو جان بچانے کے لیے خطرناک انداز میں فرار ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ فیکٹری میں ہنگامی انخلا کا کوئی مناسب راستہ موجود نہ ہونے کے باعث کئی ملازمین نے زیر تعمیر لفٹ کا سہارا لے کر خود کو باہر نکالا — بعض افراد کو لفٹ سے لٹک کر نیچے آتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ سات ملازمین زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، خوش قسمتی سے تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اس سانحے نے کراچی کے صنعتی علاقوں میں ورکرز کی حفاظت اور ایمرجنسی اقدامات سے متعلق سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔ خاص طور پر اُن فیکٹریوں میں جہاں آتش گیر مواد موجود ہوتا ہے، وہاں بروقت انخلا کے لیے مناسب منصوبہ بندی کا نہ ہونا قابل تشویش ہے۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ آگ لگنے کی اصل وجہ اور فیکٹری کی جانب سے حفاظتی اصولوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جا سکے۔ دوسری جانب، لیبر رائٹس کارکنان اور عام شہریوں نے اس افسوسناک واقعے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ سیکیورٹی اقدامات کو بہتر بنایا جائے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے سانحات سے بچا جا سکے