کراچی کے لیے بجلی کے نرخوں میں ریلیف مؤخر کرنے کی وزارت کی درخواست، نیپرا کی عوامی سماعت میں گرماگرمی

اسلام آباد میں پیر کے روز ہونے والی ایک عوامی سماعت میں وزارتِ توانائی نے کے-الیکٹرک (KE) کے صارفین کو اپریل 2025 کے لیے فی یونٹ 4.69 روپے کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (FCA) کی مد میں ریلیف دینے کی مخالفت کرتے ہوئے اس میں تاخیر کی درخواست کر دی۔ اگر یہ ریلیف دیا جاتا تو کراچی کے شہری مسلسل آٹھویں مہینے بجلی کے کم بلوں سے مستفید ہوتے۔

وزارت کا موقف تھا کہ اس قسم کی رعایت ملک میں بجلی کے یکساں نرخوں کے نظام کو متاثر کر سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب حکومت پہلے ہی آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت 21 ارب روپے کی سبسڈی دے رہی ہے۔

لیکن نیپرا کے چیئرمین وسیم مختار نے وزارت کی مداخلت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب FCA کا مقصد صرف ایندھن کی قیمتوں میں ردوبدل کے مطابق بلوں کو ایڈجسٹ کرنا ہے، تو اسے سبسڈی یا پالیسی مفادات سے کیوں جوڑا جا رہا ہے؟ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا: "آپ جس یکسانیت کی بات کر رہے ہیں، اس کا کوئی باضابطہ نظام موجود ہی نہیں۔”

کے-الیکٹرک کے سی ای او، منیس علوی نے نشاندہی کی کہ ماضی میں جب فیول کی قیمتیں بڑھیں تو کراچی کے صارفین کو زیادہ بل دینے پڑے — تب کسی نے یکساں نرخوں کی بات نہیں کی۔ اب جب قیمتیں کم ہو رہی ہیں اور عوام کو ریلیف مل سکتا ہے، تو اسے مؤخر کرنا کسی طور درست نہیں۔

FCA کا نظام دراصل اسی لیے بنایا گیا ہے کہ بجلی کے نرخ عالمی ایندھن کی قیمتوں کے ساتھ ہم آہنگ رہیں۔ لیکن جیسے ہی کراچی والوں کے لیے کچھ ریلیف نظر آیا، وزارت کی مداخلت آ گئی۔

فی الحال نیپرا نے فیصلہ مؤخر کر دیا ہے اور کہا ہے کہ جب تک وزارت کی اعتراضات کا تفصیل سے جائزہ نہیں لیا جاتا، کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔ امکان ہے کہ اگلے ہفتے تک مزید پیشرفت ہو، لیکن تاخیر مزید بھی ہو سکتی ہے۔

کراچی کے عوام کو اب انتظار کرنا ہوگا کہ کیا انہیں ریلیف ملے گا یا ایک بار پھر سرکاری فائلوں اور دفتری پیچیدگیوں میں ان کا حق دب جائے گا۔

More From Author

کراچی میں پانی چوری کے خلاف بڑی کارروائی، اہم ملزمان کی نشاندہی

جنگ بندی خطرے میں، اسرائیل نے تہران پر نئے حملوں کا آغاز کر دیا، ایران پر معاہدہ توڑنے کا الزام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے