کراچی — بدھ کی صبح لیاقت آباد کے علاقے میں واقع ایک پلاسٹک فیکٹری میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم فائر بریگیڈ کے بروقت اور مؤثر اقدامات کے باعث شعلوں پر جلد قابو پا لیا گیا۔ خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان حسن الحسین خان کے مطابق آگ صبح تقریباً ساڑھے سات بجے لیاقت آباد کے سندھی ہوٹل کے قریب واقع ایک مصروف مارکیٹ میں موجود پلاسٹک فیکٹری میں لگی۔ انہوں نے بتایا کہ “آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی تین فائر ٹینڈرز موقع پر پہنچے اور سخت جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا۔ تمام ملازمین کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔”
لیاقت آباد تھانے کے ایس ایچ او غلام یاسین کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی — جو کہ کراچی کے صنعتی و تجارتی علاقوں میں ایک عام مسئلہ بن چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شہر میں اس نوعیت کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں کیونکہ زیادہ تر عمارتوں میں پرانی وائرنگ، ناقص انفراسٹرکچر اور فائر سیفٹی کے قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔ متعدد فیکٹریاں اب بھی بنیادی حفاظتی انتظامات جیسے فائر الارم، آگ بجھانے والے آلات اور ایمرجنسی راستوں سے محروم ہیں۔
فائر پروٹیکشن ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق کراچی کی تقریباً 70 فیصد رہائشی، تجارتی اور صنعتی عمارتوں میں مناسب فائر سیفٹی سسٹم موجود نہیں۔ ایسوسی ایشن کے صدر کنور وسیم کے مطابق فائر بریگیڈ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صرف 2024 کے دوران شہر میں قریباً 3 ہزار آگ کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران بھی کئی افسوسناک واقعات پیش آ چکے ہیں۔ 9 ستمبر کو نیو کراچی کے ایک گارمنٹس کارخانے میں خوفناک آگ بھڑکنے سے چار فائر فائٹرز اور ایک نجی ٹی وی چینل کا کیمرہ مین زخمی ہو گئے تھے۔ اسی ماہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کی ایک عمارت میں لگنے والی آگ میں دو خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اگست میں تاج میڈیکل کمپلیکس کے قریب ایک گودام میں لگنے والی آگ سے چھ افراد جھلس کر جاں بحق جبکہ آٹھ زخمی ہوئے تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تمام سانحات کے باوجود شہر میں مؤثر فائر پریونشن سسٹمز کے نفاذ کے لیے خاطرخواہ اقدامات نہیں کیے جا سکے، جس کے باعث مزدوروں اور رہائشیوں دونوں کی زندگیاں مسلسل خطرے میں ہیں۔