سندھ بھر کے سرکاری کالجوں میں تعلیمی سال 2025-26 کے داخلوں کا عمل مکمل ہو چکا ہے — اور اس بار ایک دلچسپ رجحان سامنے آیا ہے: طلبہ کی دلچسپی روایتی مضامین سے ہٹ کر تیزی سے ٹیکنالوجی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اور سب سے نمایاں تبدیلی کراچی میں دیکھی گئی ہے، جہاں کمپیوٹر سائنس سب سے زیادہ منتخب کیا جانے والا مضمون بن کر ابھرا ہے۔
ڈائریکٹوریٹ آف کالجز سندھ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، صوبے بھر میں 1,69,923 طلبہ کو کالجوں میں داخلے مل چکے ہیں — جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ صرف کراچی میں 99,711 طلبہ کو کالجوں میں داخلہ ملا، جو باقی تمام شہروں سے کہیں زیادہ ہے۔
لیکن اصل کہانی صرف تعداد کی نہیں — بلکہ اس کی ہے کہ طلبہ کس مضمون کا انتخاب کر رہے ہیں۔
"یہ پہلا موقع ہے کہ کراچی میں کمپیوٹر سائنس نے تمام مضامین کو پیچھے چھوڑ دیا ہے،”
ڈاکٹر نوید رب صدیقی، ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ نے بتایا۔
"یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ نوجوان اب مستقبل کی ضرورتوں سے ہم آہنگ مضامین کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔”
روایت کے بجائے ٹیکنالوجی کا انتخاب
کراچی میں ہونے والے تقریباً ایک لاکھ داخلوں میں سے 31,692 طلبہ نے کمپیوٹر سائنس کا انتخاب کیا، جب کہ روایتی مضامین جیسے پری میڈیکل (22,846) اور کامرس (21,233) اس کے بعد آئے۔
اس کے علاوہ پری انجینئرنگ میں 11,386، ہیومینٹیز میں 8,876 اور ہوم اکنامکس میں محض 160 داخلے ہوئے۔
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی اس بات کا اشارہ ہے کہ طلبہ — اور ممکنہ طور پر ان کے والدین — اب ٹیکنالوجی، آئی ٹی، سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ اور ڈیجیٹل کاروبار جیسے شعبوں میں ابھرتے مواقع کو بہتر طور پر سمجھنے لگے ہیں۔
"یہ خوش آئند بات ہے کہ نوجوان ایسے شعبوں کی طرف بڑھ رہے ہیں جو عالمی سطح پر اہمیت رکھتے ہیں،”
کراچی کے ایک کالج پرنسپل نے بتایا۔
"ٹیک انڈسٹری عروج پر ہے، اور نئی نسل اس کی جانب متوجہ ہو رہی ہے۔”
دیگر شہروں میں ابھی بھی پری میڈیکل کا راج
جہاں کراچی ٹیکنالوجی کو گلے لگا رہا ہے، وہاں سندھ کے دیگر شہروں میں روایتی رجحانات برقرار ہیں۔
حیدرآباد میں، جہاں اس سال 26,543 طلبہ کو داخلہ ملا، سب سے زیادہ پری میڈیکل (16,767) میں دلچسپی دیکھی گئی۔
اسی طرح سکھر (10,979)، میرپورخاص (10,618)، شہید بے نظیرآباد (10,183) اور لاڑکانہ (9,889) میں بھی زیادہ تر طلبہ نے روایتی مضامین کا انتخاب کیا — اگرچہ مجموعی طور پر ان شہروں میں بھی داخلوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
داخلوں کا نظام جدید، منتقلی کا اختیار کالجوں کو مل گیا
اس سال ایک اہم پیشرفت یہ ہوئی ہے کہ داخلے سے متعلق متعدد اختیارات کالج پرنسپلز کو تفویض کر دیے گئے ہیں۔ اب طلبہ منتقلی، کلیم یا کینسلیشن جیسے معاملات براہِ راست اپنے کالج سے نمٹا سکتے ہیں۔
"اب طلبہ کو دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں،”
ڈاکٹر صدیقی نے بتایا۔
"یہ ایک عملی قدم ہے جو وقت، پیسے اور مشقت — تینوں کی بچت کرے گا۔”
یہ تبدیلی سندھ الیکٹرانک سینٹرلائزڈ کالج ایڈمیشن پروگرام (SECAP) کے تحت کی گئی ہے — جو اب صوبے بھر میں داخلوں کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی بن چکا ہے۔
5 اگست سے نئی کلاسز — نئی امید کے ساتھ
داخلوں کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد، سندھ کے سرکاری کالج اب 5 اگست سے کلاسز کے آغاز کے لیے تیار ہیں۔
ہزاروں طلبہ کے لیے یہ نہ صرف ایک تعلیمی سال کا آغاز ہے بلکہ ٹیکنالوجی، اختراع، اور مستقبل کی تعمیر کا سفر بھی ہے۔
"کمپیوٹر سائنس اب صرف ایک مضمون نہیں، بلکہ مستقبل کی کنجی ہے،”
کراچی کے ایک کالج کے نئے طالبعلم نے کہا۔
"آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے لے کر سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ تک — ہر جگہ اسی کی ضرورت ہے۔” اور 2025 میں، ایسا لگتا ہے کہ کراچی کے طلبہ مستقبل کو گلے لگانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں