شہرِ قائد کی مصروف سڑکیں اب خطرناک قاتل راستوں میں بدل چکی ہیں۔ ٹریفک حادثات میں خوفناک اضافے نے شہریوں کو غیر محفوظ کر دیا ہے۔ صرف جولائی کے مہینے میں پیش آنے والے حادثات میں 16 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں — اور یہ المناک اعداد و شمار انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔
حادثات کی ہولناک تصویر
K21 نیوز کی رپورٹ کے مطابق، صرف جولائی میں پانچ شہری پانی کے ٹینکرز کی زد میں آکر جان سے گئے۔ بے قابو ہیوی ٹریلرز نے مزید تین افراد کو کچل دیا، جبکہ سات لوگ نامعلوم گاڑیوں کی ٹکر سے موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
21 جولائی کو لانڈھی منزل پمپ کے قریب ایک خوفناک ریڈ بس حادثے میں نو افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک بچہ بھی شامل تھا۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ کراچی کی بدنظم ٹریفک، لاپرواہ انتظامیہ اور خاموش قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ایک تکلیف دہ جھلک ہیں۔
شہری بے بس، حکومت بے حس
"ہم فریاد لے کر جائیں تو کہاں جائیں؟” — یہ سوال آج ہر متاثرہ شہری کی زبان پر ہے۔ شہر بھر میں ہیوی ڈمپرز اور نامعلوم گاڑیوں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
ایک مشتعل شہری نے K21 نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ "زیادہ تر ہیوی گاڑیوں کے ڈرائیور یا تو نشے میں ہوتے ہیں یا انتہائی تھکے ہوئے۔ کوئی عام انسان روزانہ 10 سے 12 گھنٹے تک بھاری گاڑی نہیں چلا سکتا!”
شہریوں کی اپیل ہے کہ ڈرائیورز کے لیے منشیات کے لازمی ٹیسٹ کیے جائیں تاکہ سڑکوں پر خون بہنے کا یہ سلسلہ روکا جا سکے۔
وقتی کارروائیاں، مستقل خاموشی
حکومتی دعوے اور اقدامات صرف وقتی ثابت ہو رہے ہیں۔ رہائشی علاقوں میں چند دنوں کے لیے چیکنگ ہوتی ہے، مگر پھر وہی پرمٹ دوبارہ جاری کر دیے جاتے ہیں، اور ہیوی گاڑیاں دوبارہ دن کے وقت ہی سڑکوں پر نظر آنے لگتی ہیں — جو کہ ان کے مقررہ اوقات کی خلاف ورزی ہے۔
اس غفلت کے باعث شہری نہ صرف جان سے جا رہے ہیں بلکہ روزانہ خوف کے سائے میں سفر کرنے پر مجبور ہیں۔
اداروں کی خاموشی، جان لیوا بے حسی
ماہرین نے ٹریفک پولیس اور متعلقہ حکام کی مسلسل خاموشی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ سلسلہ مزید جانیں نگلتا رہے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹریفک قوانین کا سختی سے نفاذ کیا جائے، ہیوی گاڑیوں کے لیے مخصوص اوقات کا تعین اور عملدرآمد یقینی بنایا جائے، اور عام شہریوں، خاص طور پر موٹر سائیکل سواروں کو احتیاط برتنے کی سخت تلقین کی جائے۔
K21 نیوز کے رپورٹر ملک فیصل کی یہ رپورٹ کراچی کی سڑکوں پر خون کے مسلسل بہاؤ کی ایک لرزہ خیز داستان بیان کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اور متعلقہ ادارے آخرکار جاگیں گے؟
یا یہ سڑکیں مزید ماں باپ کے لال، بہنوں کے بھائی اور بچوں کے باپ نگلتی رہیں گی — اور حکومت تماشائی بنی بیٹھی رہے گی؟