کراچی کی بزنس کمیونٹی کا بڑا قدم، شہر بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن — مسائل حل نہ ہوئے تو کاروبار دبئی منتقل کرنے کی وارننگ

کراچی | 19 جولائی 2025

کراچی کے تاجروں نے حکومت کو دوٹوک پیغام دے دیا ہے — یا تو مسائل حل کرو، یا ہم اپنا کاروبار بیرون ملک منتقل کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (KCCI) نے شہر بھر میں آج مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ہنگامی اجلاس کے بعد سامنے آیا، جس کی صدارت کراچی چیمبر کے صدر جاوید بلوانی نے کی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جاوید بلوانی کا کہنا تھا، "یہ ہڑتال کسی سیاسی جماعت کے ایجنڈے کا حصہ نہیں، نہ ہی ہم کسی سیاسی کھیل میں شامل ہیں۔ یہ فیصلہ خالصتاً معاشی بقا اور کاروباری تحفظات کے پیش نظر لیا گیا ہے۔”

ان کا کہنا تھا کہ اگر آئندہ اجلاس تک حکومت نے تحریری یقین دہانی نہ کرائی، تو یہ احتجاج کراچی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ملک گیر ہڑتال کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ "ہم مذاق نہیں کر رہے۔ اگر حکومت نے مسائل پر سنجیدگی نہ دکھائی تو ہمیں اپنے کاروبار دبئی اور دیگر محفوظ ممالک میں منتقل کرنے پڑیں گے،” بلوانی نے واضح انداز میں کہا۔

کراچی چیمبر کی اس کال کو شہر کی تقریباً تمام بڑی تجارتی انجمنوں کی حمایت حاصل ہو چکی ہے، جن میں ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن، بولٹن مارکیٹ تاجران، موٹرسائیکل اسپئیر پارٹس ایسوسی ایشن، پاکستان ٹی ایسوسی ایشن اور آئرن اینڈ اسٹیل مرچنٹس شامل ہیں۔

آل پاکستان ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن کے صدر وقاص عظیم نے کہا، "ہماری آواز سنی جائے۔ معاشی قتل عام بند کیا جائے۔ ہم اس احتجاج کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔”

اسی طرح کراچی گڈز کیریئر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ندیم اختر آرائیں نے بھی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا، "پورے ملک کی تاجر برادری آج ایک آواز ہے۔ حکومت کو ہمارے معاشی مسائل پر فوری اور سنجیدہ توجہ دینا ہوگی۔”

تاہم ہر طرف یکجہتی کا منظر نظر نہیں آ رہا۔ آل سندھ ٹرک ڈمپر ایسوسی ایشن نے اس ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے چیئرمین میاں جان نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس (FPCCI) کی جانب سے ملک گیر ہڑتال مؤخر کرنے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا، "ہم حکومت سے مثبت اور نتیجہ خیز مذاکرات چاہتے ہیں۔ ہمارا یقین ہے کہ کاروبار کو روکنے کے بجائے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔”

خیال رہے کہ FPCCI، جو ملک بھر کی کاروباری برادری کی نمائندہ تنظیم ہے، نے بھی پہلے ملک گیر ہڑتال کی کال دی تھی، لیکن بعد میں حکومت سے بات چیت کے پیش نظر اسے مؤخر کر دیا گیا۔ تاہم کراچی چیمبر نے شہر کی مخصوص اور سنگین صورتحال کے باعث ہڑتال کا فیصلہ برقرار رکھا۔

تاجروں کے اس احتجاج کو حالیہ برسوں کی سب سے مضبوط اور متحد آواز قرار دیا جا رہا ہے۔ شہر بھر کی مارکیٹیں بند ہیں، لیکن پیغام پوری وضاحت سے پہنچ چکا ہے — اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو صرف اعتماد ہی نہیں، سرمایہ بھی ملک چھوڑ جائے گا۔

More From Author

سعود آباد میں المناک حادثہ: تیز رفتار ٹرک نے موٹر سائیکل سوار کی جان لے لی

جھیلوں کے قریب ہوٹلوں کی تعمیر پر پابندی — گلگت بلتستان کی فطری خوبصورتی کو بچانے کا فیصلہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے