کراچی کا بڑھتا ہوا پانی بحران: گھارو پمپنگ اسٹیشن بند، شہری پریشان

 

کراچی | 19 جولائی 2025
کراچی کے باسی، جو پہلے ہی شدید گرمی اور پانی کی مستقل قلت سے نبرد آزما ہیں، ان کے لیے جمعہ کی دوپہر آئی خبر کسی قیامت سے کم نہ تھی۔ گھارو پمپنگ اسٹیشن مکمل طور پر بند ہو چکا ہے — وجہ بنی کے-الیکٹرک کی کیبل میں اچانک پیدا ہونے والا فالٹ، جس کے باعث شہر کو فراہم کیا جانے والا پانی مکمل طور پر معطل ہو گیا۔

یہ بندش معمولی نہیں تھی — شہر کو یومیہ تقریباً تین کروڑ گیلن پانی سپلائی کرنے والا یہ مرکز اچانک خاموش ہو گیا، اور کراچی جیسے پانی کے ہر قطرے کو ترسنے والے شہر میں یہ ایک بڑا دھچکا ہے۔

قصور کس کا؟

واٹر کارپوریشن کے حکام کے مطابق بجلی کی فراہمی سہ پہر 3 بجے معطل ہوئی، جس سے گھارو پمپنگ اسٹیشن کے ساتھ ساتھ قریبی فلٹر پلانٹ بھی متاثر ہوا۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب صرف چند روز قبل، ٹھٹھہ کے دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر بھی اسی نوعیت کا فالٹ سامنے آیا تھا — جو کہ ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔

کارپوریشن کے ترجمان نے تصدیق کی کہ گھارو کا پمپنگ اسٹیشن مکمل طور پر بند ہے، اور کے-الیکٹرک کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ مسئلہ جلد از جلد حل کیا جا سکے۔

“دونوں اداروں کی تکنیکی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں،” ترجمان نے بتایا۔ “ایک متاثرہ لائن کی مرمت مکمل ہو چکی ہے، جبکہ دوسری پر کام جاری ہے۔”

کون کون متاثر ہوگا؟

ابتدائی اطلاعات کے مطابق پورٹ قاسم، بن قاسم ٹاؤن، شاہ فیصل ٹاؤن، کارساز اور اردگرد کے کئی علاقے شدید پانی کی قلت کا سامنا کریں گے۔

ان علاقوں کے مکینوں نے پہلے ہی پریشانی کا اظہار شروع کر دیا ہے۔ کہیں پانی کی رفتار نلکوں میں انتہائی کم ہو چکی ہے، تو کہیں مکمل طور پر پانی بند ہے۔ ٹینکر سروسز کی طلب میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، اور سوشل میڈیا شہریوں کی شکایات اور اپیلوں سے بھر چکا ہے۔

“ایسا لگ رہا ہے جیسے سب کچھ دوبارہ ہو رہا ہو،” بن قاسم کے رہائشی رفیق احمد نے بتایا۔ “چند دن پہلے دھابیجی بند تھا، اور اب گھارو بھی۔ آخر کب تک ہم ایسے جییں گے؟”

پرانا مسئلہ، نئی شدت کے ساتھ

کراچی کے لیے یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ بجلی کی خرابی کے باعث پمپنگ اسٹیشنز کی بندش ایک معمول بنتی جا رہی ہے، لیکن اس کے نتائج ہر بار پہلے سے زیادہ سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ شہر کا انفراسٹرکچر پہلے ہی اپنی حدود سے زیادہ دباؤ برداشت کر رہا ہے، اور ایسے میں موسم، آبادی اور طلب کا بڑھنا ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔

نہ بارشیں ہو رہی ہیں، نہ ذخائر بھر رہے ہیں، اور پانی کی چوری بھی ایک مستقل ناسور بنی ہوئی ہے۔ ایسے میں عام شہری ان مسائل کے درمیان پھنس کر رہ گئے ہیں — جن کی جڑ بدانتظامی اور غیر سنجیدہ منصوبہ بندی میں ہے۔

ماحولیاتی ماہرین برسوں سے خبردار کرتے آ رہے ہیں کہ کراچی کا واٹر سسٹم ایک بڑی تباہی کے دہانے پر ہے — اور آج گھارو کا بند ہونا اس تباہی کی طرف ایک اور قدم محسوس ہوتا ہے۔

اب کیا ہوگا؟

کے-الیکٹرک اور واٹر کارپوریشن دونوں کی ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں، اور امید ہے کہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں پانی کی فراہمی جزوی طور پر بحال ہو جائے گی۔ لیکن کوئی حتمی وقت نہیں دیا گیا۔

ادھر، شہری ایک اور پانی کے بحران کے لیے خود کو تیار کر رہے ہیں۔

ہائی رسک علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر ٹینکرز اور متبادل ذرائع سے پانی فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ اکثر علاقوں میں یہ اقدامات ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔

کراچی کی پیاس — ایک بڑھتا ہوا المیہ

کراچی میں پانی ایک سہولت نہیں، بلکہ زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ جب پمپنگ اسٹیشن بند ہوتے ہیں، تو اثر صرف نلکوں تک محدود نہیں رہتا — ہسپتال، اسکول، چھوٹے کاروبار، سب کچھ متاثر ہوتا ہے۔

شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی اور کمزور ڈھانچے کے ساتھ، دھابیجی اور گھارو جیسے مراکز پر انحصار خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ جب تک طویل المدتی اقدامات نہیں کیے جاتے — جیسے بہتر بجلی کا نظام، نئے پانی کے ذرائع اور متوازن اربن پلاننگ — تب تک یہ خرابیاں ہوتی رہیں گی۔ اور ہر بار ان کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑے گا۔

“یہ اب جینے مرنے کا سوال ہے،” رفیق نے کہا۔ “یہ صرف پانی نہیں… یہ ہماری زندگی ہے۔”

More From Author

سویڈا میں جنگ بندی: راکھ، درد اور بے یقینی کے درمیان ایک نازک صلح

یورپی یونین کی روس پر پابندیوں کا 18واں مرحلہ: تیل، شیڈو فلیٹ اور نارد اسٹریم ہدف پر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے