کراچی: کار شو روم کے مالک کے گھر میں مسلح ڈکیتی، 13 کروڑ روپے نقد اور قیمتی سامان لوٹ لیا گیا

کراچی کے پوش علاقے پی ای سی ایچ ایس بلاک 2 میں ایک خوفناک واردات کے دوران مسلح ڈاکوؤں نے کار شو روم کے مالک کے گھر پر دھاوا بول کر 13 کروڑ روپے نقد اور متعدد قیمتی اشیاء لوٹ لیں۔ یہ واقعہ 26 جون کی علی الصبح پیش آیا، جس نے نہ صرف علاقے میں سنسنی پھیلا دی بلکہ شہر میں بڑھتے جرائم پر ایک بار پھر سوال اٹھا دیے۔

متاثرہ شخص محمد سالک، جو شہر کے معروف کار شو رومز میں سے ایک کے مالک ہیں، رات تقریباً 3:30 بجے گھر واپس پہنچے۔ جیسے ہی انہوں نے اپنی گاڑی گھر کے باہر پارک کی، ایک کالی گاڑی ان کے سامنے آ کر رک گئی، جس سے دو مرد اور تین برقع پوش خواتین باہر نکلیں۔ حیران کن طور پر، ایک مرد ایف آئی اے (فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی) کی وردی میں ملبوس تھا۔

ڈاکوؤں نے پستول تان کر سالک کو یرغمال بنایا اور زبردستی ان سے گھر کا دروازہ کھلوانے کو کہا۔ سالک کی آواز سن کر ان کے گھر والے دروازہ کھول بیٹھے، جس کے بعد ڈاکو اندر داخل ہو گئے۔

گھر کے اندر ڈاکو انتہائی منظم طریقے سے حرکت میں آئے، اہل خانہ کو دھمکیاں دیں اور نقدی، زیورات اور الماریوں کی چابیاں مانگیں۔ پولیس کے مطابق، ڈاکو گھر سے درج ذیل سامان لے کر فرار ہو گئے:

  • 13 کروڑ روپے نقدی، جو مختلف بیگز میں بھر کر لے جائی گئی
  • 9 قیمتی موبائل فونز، جن میں آئی فونز اور گوگل پکسلز شامل ہیں
  • 20 مہنگی کلائی گھڑیاں اور ایک اسمارٹ واچ
  • 25 برانڈڈ پرفیومز
  • 2 لیپ ٹاپس

فیروزآباد پولیس نے واقعے کی ایف آئی آر محمد سالک کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کر لی ہے۔ پولیس نے قریبی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی ہے اور ڈاکوؤں کی تلاش کے لیے چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں۔

ابتدائی تفتیش سے ظاہر ہوتا ہے کہ واردات مکمل منصوبہ بندی کے تحت کی گئی۔ ڈاکوؤں کو نہ صرف متاثرہ شخص کی مالی حیثیت کا علم تھا بلکہ گھر کی ترتیب سے بھی وہ بخوبی واقف تھے۔ ایف آئی اے کی جعلی وردی استعمال کرنا اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ملزمان پیشہ ور اور منظم گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

تحقیقات سے منسلک ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا، "یہ کوئی عام ڈکیتی نہیں تھی۔ جتنی منصوبہ بندی، مالی نقصان اور وفاقی ادارے کی جعلی شناخت استعمال کی گئی، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے ایک منظم مجرمانہ نیٹ ورک ہے۔”

کراچی میں اس سے پہلے بھی کئی ہائی پروفائل وارداتیں ہو چکی ہیں، مگر یہ واقعہ پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کے درمیان مزید مؤثر رابطے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ متعدد سراغوں پر کام جاری ہے۔ کیس کی تفتیش تیزی سے جاری ہے

More From Author

آئی ایم ایف کے دباؤ پر حکومت نے گیس کے فکسڈ چارجز میں 50 فیصد اضافہ کر دیا، چینی درآمد پر فیصلہ مؤخر

کراچی: ایس بی سی اے نے مون سون سے قبل 740 عمارتوں کو خطرناک قرار دے دیا، فوری انخلاء کی اپیل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے