کراچی: ملیر ندی کے قریب شرافی گوٹھ سے ڈرم میں ملنے والی خاتون کی لاش کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا ہے جس میں تفتیش کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق، شرافی گوٹھ کے علاقے میں ندی کے کنارے ایک نیلے پلاسٹک کے ڈرم سے نامعلوم خاتون کی لاش ملنے کے بعد واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
ایس ایس پی ملیر ڈاکٹر عبد الخالق پیرزادہ نے تصدیق کی کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق خاتون کی موت کو تقریباً 10 سے 12 دن گزر چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لاش پرانے ہونے کی وجہ سے فنگر پرنٹس کے ذریعے شناخت کی کوششیں ناکام رہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ "شرافی گوٹھ تھانے میں سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔”
شہر بھر کے پولیس اسٹیشنز کو ہدایت دی گئی ہے کہ خاتون کی گمشدگی سے متعلق موصول ہونے والی تمام رپورٹس فوری طور پر چیک کی جائیں۔ پولیس نے ایک خاندان سے رابطہ بھی کیا ہے لیکن اب تک خاتون کی شناخت نہیں ہو سکی۔
واضح رہے کہ دو روز قبل مقامی افراد نے ملیر ندی کے قریب جاجی شمبے گوٹھ کے پاس ڈرم دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی تھی۔ پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا تھا۔
پوسٹ مارٹم کے دوران لیڈی میڈیکو لیگل آفیسر (ایم ایل او) نے مزید فرانزک تجزیے کے لیے خاتون کے تین اعضا کے نمونے بھی حاصل کیے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ خاتون کو دشمنی کی بنیاد پر قتل کیا گیا، قتل کے بعد لاش کو ڈرم میں بند کر کے پھینک دیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق، خاتون کو ایک سے زائد افراد نے قتل کیا اور ملزمان واردات کے بعد موقع سے فرار ہو گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ایک سرد خون سے کیا گیا قتل ہے اور ملزمان کو جلد قانون کی گرفت میں لانے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں