کراچی – 30 جولائی 2025:
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے شہر بھر میں غیر قانونی پارکنگ فیس کی وصولی اور اورنگی ٹاؤن شپ منصوبے میں زمینوں کی بے ضابطہ الاٹمنٹ کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ کارروائی میئر مرتضیٰ وہاب کی جانب سے شہر میں مفت پارکنگ کے اعلان اور وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایات کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔ کے ایم سی نے فوری عملدرآمد کرتے ہوئے غیر قانونی فیس وصول کرنے والوں کے خلاف تین ایف آئی آرز درج کرائی ہیں۔
پہلا مقدمہ 10 جولائی کو شہریوں کی شکایات پر کھارادر تھانے میں درج ہوا، دوسرا 28 جولائی کو سٹی وارڈنز کی کارروائی کے نتیجے میں بہادرآباد تھانے میں، جبکہ تیسرا مقدمہ 29 جولائی کو بوٹ بیسن کے قریب غیر قانونی فیس لیتے ہوئے افراد کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کے بعد درج کیا گیا۔
میئر مرتضیٰ وہاب نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی پارکنگ فیس کی ادائیگی سے گریز کریں اور ایسے واقعات کی اطلاع فوری طور پر کے ایم سی ہیلپ لائن 1339 پر دیں۔ انہوں نے سٹی وارڈن ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت دی ہے کہ مفت پارکنگ کے مقامات پر اہلکار تعینات کیے جائیں اور باقاعدہ گشت کو یقینی بنایا جائے تاکہ خلاف ورزیوں کا سدباب ہو سکے۔
دوسری جانب، کے ایم سی نے کرپشن کے خلاف ایک اور محاذ کھولتے ہوئے اورنگی ٹاؤن شپ منصوبے میں پلاٹوں کی مشتبہ الاٹمنٹ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ یہ تحقیقات میئر کی ہدایت پر کی گئیں، جن میں انکشاف ہوا کہ سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر رضوان خان کے دور میں قواعد و ضوابط کو نظرانداز کرتے ہوئے درجنوں پلاٹ لیز پر دیے گئے۔
تحقیقات کے مطابق 2019 میں صرف ایک شخص کو 26 پلاٹ دیے گئے، جبکہ مزید 180 پلاٹ ایک ہی خاندان کے افراد یا قریبی رشتہ داروں کو دیے گئے۔ موجودہ پراجیکٹ ڈائریکٹر فیصل رضوی نے اپنی رپورٹ میں 500 سے زائد مشتبہ الاٹمنٹس کی نشاندہی کی ہے، جن میں سے 320 کیسز حالیہ جائزے میں سامنے آئے ہیں جبکہ 80 سے زائد پہلے ہی ریکارڈ پر موجود تھے۔
کے ایم سی نے ان غیر قانونی لیزوں کو منسوخ کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے اور متعلقہ کیسز قانونی کارروائی کے لیے ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن کو بھجوا دیے گئے ہیں۔
کراچی جو طویل عرصے سے انتظامی بدحالی کا شکار رہا ہے، وہاں کے ایم سی کی یہ کارروائیاں شہری انتظامیہ کی جانب سے ایک غیر معمولی اور قابلِ تحسین قدم قرار دی جا رہی ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ مہم پائیدار اصلاحات کی راہ ہموار کر پائے گی یا نہیں — لیکن فی الحال، کریک ڈاؤن پوری شدت سے جاری ہے۔