کراچی – لیاری میں حالیہ عمارت گرنے کے دلخراش واقعے نے ایک بار پھر کراچی کے شہری منصوبہ بندی نظام اور نگرانی کے اداروں کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ واقعہ صرف ایک حادثہ نہیں، بلکہ انتظامی غفلت کی ایسی کہانی بن چکا ہے جس نے درجنوں خاندانوں کو صفِ ماتم پر بٹھا دیا ہے۔
تحقیقات اور عدالتی کارروائیوں سے جو انکشافات سامنے آئے ہیں، وہ خاصے تشویشناک ہیں۔ متاثرہ عمارت، جو 1986 میں تعمیر ہوئی تھی، کافی عرصے سے ناقابلِ رہائش قرار دی جا چکی تھی۔ اس انتباہ کے باوجود، وہاں لوگ مقیم رہے اور نتیجتاً 27 قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں — جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل تھے — جبکہ چار افراد زخمی بھی ہوئے۔ ایسی خستہ حال عمارت میں انسانی زندگیوں کا داؤ پر لگ جانا، ریاستی اداروں کی مجرمانہ لاپرواہی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
حادثے کے بعد کی کارروائیاں اور گرفتاریاں
سانحے کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کا آغاز کیا، تاہم اس کی رفتار اور سنجیدگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مقامی حکومت کے ایک افسر کی شکایت پر مقدمہ درج کیا گیا، جس میں قتلِ خطا، غفلت، لاپرواہی، اور املاک کو نقصان پہنچانے جیسے سنگین الزامات شامل کیے گئے۔
تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ چودہ افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کے چھ افسران اور عمارت کا مالک شامل ہیں، جنہیں اس سانحے کے بنیادی ذمہ داروں کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ گرفتار افسران میں پانچ ڈائریکٹرز، دو ڈپٹی ڈائریکٹرز، اور ایک انسپکٹر شامل ہیں — جو اس ادارے میں گہرے انتظامی و ساختیاتی مسائل کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
گرفتار افراد کو جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے انہیں تین روزہ پولیس ریمانڈ پر دے دیا تاکہ تفتیش کو مزید آگے بڑھایا جا سکے اور ذمہ داریوں کا درست تعین کیا جا سکے۔
غیرواضح سوالات اور آگے کا راستہ
عدالتی کارروائیوں کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ اب تک صرف ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے، حالانکہ کئی افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ امر اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا تحقیقات کا دائرہ کار کافی ہے؟ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی آر سانحے کے بعد درج کی گئی، جبکہ گرفتاریاں تین روز بعد عمل میں آئیں۔ قانونی کارروائی تو جاری ہے، لیکن ابتدائی ردِ عمل کی سستی اور دائرہ کار پر تنقید بدستور برقرار ہے۔
یہ افسوسناک واقعہ ہمیں ایک بار پھر یاد دلاتا ہے کہ شہری ترقی اور تعمیرات کے معاملات میں سخت نگرانی اور شفاف نظام کی اشد ضرورت ہے۔ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت اور اس کے متعلقہ اداروں کی اولین ذمہ داری ہے۔ پولیس کی ابتدائی رپورٹ میں SBCA حکام اور عمارت کے مالک کو براہِ راست موردِ الزام ٹھہرایا گیا ہے، تاہم اس پورے سانحے کے پیچھے موجود نظامی ناکامیاں کہیں زیادہ گہری اور پیچیدہ ہیں — جنہیں فوری طور پر ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔
آنے والی سماعتیں نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے اہم ہیں، بلکہ وہ کراچی کے شہریوں کی نظروں کا مرکز بھی ہوں گی۔ عوام صرف سزاؤں کی منتظر نہیں، بلکہ ایک ایسے نظامِ احتساب کے منتظر ہیں جو مستقبل میں ایسے کسی سانحے کو روکنے کے قابل ہو۔ یہ المیہ ہمارے شہری اداروں کی جانب سے فرض کی وہ کوتاہی ہے، جس کی قیمت عام انسانوں نے اپنی جانوں سے چکائی ہے