کراچی – یکم جولائی 2025: سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے لیے کیا جانے والا پرامن احتجاج پیر کے روز اس وقت پرتشدد ہو گیا جب مظاہرین اور حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہو گئے۔
سندھ ایمپلائز گرینڈ الائنس کی کال پر کراچی پریس کلب کے باہر سیکڑوں ملازمین نے جمع ہو کر 70 فیصد تنخواہوں اور پنشن میں اضافے، پنشن کے بقایا جات کی ادائیگی، اور ڈسپیئرٹی ریڈکشن الاؤنس (DRA) اور ہاؤس رینٹ الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا۔
ابتدائی طور پر سندھ کے وزیر توانائی اور کمشنر کراچی پر مشتمل حکومتی وفد نے مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی، لیکن بات چیت میں کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ نتیجتاً مظاہرین نے اعلان کیا کہ وہ وزیر اعلیٰ ہاؤس کی طرف مارچ کریں گے۔
پولیس نے صورتحال قابو میں رکھنے کے لیے پریس کلب کے ارد گرد سڑکوں پر بیریئر لگا دیے اور راستے سیل کر دیے، لیکن مظاہرین نے رکاوٹیں عبور کر لیں اور شہر کے حساس ریڈ زون میں داخل ہو گئے، یہاں تک کہ وہ پولو گراؤنڈ تک پہنچ گئے۔
وہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان مختصر جھڑپ ہوئی، جس کے بعد پولیس نے انھیں فوارہ چوک کے قریب صدر کی طرف دھکیل دیا۔
اس کے بعد حالات مزید بگڑ گئے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی، جس سے علاقہ میدانِ جنگ کا منظر پیش کرنے لگا۔ آنسو گیس سے کئی لوگ متاثر ہوئے، جن میں ایک خاتون پولیس اہلکار بے ہوش بھی ہو گئیں۔ قریبی علاقوں میں شدید ٹریفک جام دیکھنے میں آیا۔
20 سے زائد مظاہرین کو گرفتار بھی کر لیا گیا، تاہم پولیس کی جانب سے تاحال زخمیوں یا متاثرین کی تعداد سے متعلق کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔
یہ احتجاج ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور سرکاری ملازمین کی جمود کا شکار تنخواہوں کے تناظر میں پایا جانے والا بڑھتا ہوا اضطراب ظاہر کرتا ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ بار بار مطالبات کر چکے ہیں، لیکن کوئی سننے والا نہیں۔
"ہم مذاکرات کی امید لے کر آئے تھے، مگر بدلے میں آنسو گیس ملی،” ایک مظاہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ "ہمارے گھریلو اخراجات آسمان سے باتیں کر رہے ہیں، تنخواہیں ویسے کی ویسی ہیں — ہم کیسے گزارا کریں؟”
پیر کی شب تک صورتحال کشیدہ رہی، جب کہ ملازمین کی یونینز نے وارننگ دی ہے کہ اگر بجٹ میں ان کے مطالبات نہ مانے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔