کراچی میں جرائم کی لہر برقرار: جولائی میں 3,500 سے زائد موٹرسائیکلیں اور 1,600 موبائل فون چھین لیے گئے

کراچی – 7 اگست 2025

شہرِ قائد میں اسٹریٹ کرائمز کا جن قابو میں آنے کے بجائے مزید بے قابو ہوتا جا رہا ہے۔ شہری-پولیس رابطہ کمیٹی (CPLC) کی جانب سے جولائی 2025 کے لیے جاری کردہ ماہانہ رپورٹ نے کراچی میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، جولائی کے مہینے میں کل 3,859 موٹرسائیکلیں یا تو چوری ہوئیں یا شہریوں سے چھین لی گئیں۔ ان میں سے 502 موٹرسائیکلیں اسلحے کے زور پر چھینی گئیں جبکہ 3,357 چوری کی وارداتیں مختلف علاقوں سے رپورٹ ہوئیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ عام شہری، بالخصوص دیہاڑی دار اور فوڈ ڈیلیوری سے وابستہ افراد کس حد تک غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔

اسی مہینے میں اسٹریٹ کرمنلز نے 1,603 موبائل فونز بھی شہریوں سے چھین لیے، جس سے عوام میں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کا احساس مزید گہرا ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، 22 گاڑیاں چھینی گئیں اور 197 گاڑیاں چوری ہوئیں — جو کہ شہر کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو مزید اجاگر کرتی ہیں۔

رپورٹ میں صرف چوری اور چھینا جھپٹی تک ہی محدود نہیں رہا گیا۔ جولائی کے مہینے میں اغواء برائے تاوان کا ایک کیس اور بھتہ خوری کے پانچ مقدمات بھی رپورٹ کیے گئے، جس سے منظم جرائم پیشہ گروہوں کی ممکنہ واپسی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

تاہم، سب سے تشویشناک پہلو وہ اموات ہیں جو ان وارداتوں کے دوران پیش آئیں۔ صرف جولائی کے مہینے میں کم از کم 52 افراد فائرنگ کے مختلف واقعات میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے — جو اس بات کی دردناک یاد دہانی ہے کہ کراچی کا عام شہری ہر روز موت کے سائے تلے زندگی گزار رہا ہے۔

یہ اعداد و شمار سال 2024 کے ابتدائی مہینوں کے رجحان کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔ CPLC کی ایک سابقہ رپورٹ کے مطابق، سال کے پہلے تین مہینوں (جنوری تا مارچ) کے دوران 22,627 جرائم رپورٹ ہوئے۔

ان تین مہینوں کے دوران:

  • 59 افراد دورانِ ڈکیتی مزاحمت پر قتل کر دیے گئے
  • 700 سے زائد شہری زخمی ہوئے
  • 373 کاریں، 15,968 موٹرسائیکلیں اور 6,102 موبائل فونز چھینے یا چوری کیے گئے
  • 25 بھتہ خوری اور اغواء برائے تاوان کے پانچ کیسز بھی سامنے آئے
  • مجموعی طور پر 154 اموات مختلف جرائم کے نتیجے میں ہوئیں

اگرچہ پولیس اور دیگر ادارے آئے دن دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ جرائم پر قابو پا رہے ہیں، لیکن ان رپورٹس سے صاف ظاہر ہے کہ زمینی حقائق کچھ اور ہی کہانی سناتے ہیں۔ کراچی کے شہری اب بھی جرائم پیشہ افراد کے رحم و کرم پر ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اعتماد بحال کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں

More From Author

روزگار کے بحران نے شدت اختیار کی، 2025 کے پہلے چھ ماہ میں 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد پاکستانی ملک چھوڑ گئے

کراچی میں ای چالان سسٹم کا آغاز، خلاف ورزی پر تصاویر اور ویڈیوز کی بنیاد پر جرمانے جاری ہوں گے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے