کراچی، 8 اگست 2025 — شہر کو صاف، محفوظ اور قابلِ رہائش بنانے کے لیے کراچی انتظامیہ نے تجاوزات، غیرقانونی پارکنگ اور منشیات کے عادی افراد کے خلاف وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی زیرِ صدارت منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا، جس میں کمشنر کراچی، ایڈیشنل آئی جی پولیس، ڈی آئی جی ٹریفک، کے ایم سی کے میونسپل کمشنر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی کا کہنا تھا کہ اس مہم کا مقصد صرف سڑکوں سے تھڑے یا غیرقانونی اسٹالز ہٹانا نہیں بلکہ شہر کو اس کے شہریوں کے لیے واپس حاصل کرنا ہے۔ “ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ پبلک مقامات عوام کے لیے قابلِ رسائی ہوں، ٹریفک رواں دواں رہے، اور غیرقانونی عناصر کا سختی سے سدباب کیا جائے،” انہوں نے کہا۔
نئی حکمت عملی کے تحت کراچی کے مختلف اضلاع میں ہر ہفتے مشترکہ کارروائیاں کی جائیں گی، جن میں مختلف ادارے حصہ لیں گے۔ ان کارروائیوں میں فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر قائم غیرقانونی تجاوزات، غیرقانونی پارکنگ مافیا اور منشیات کے عادی افراد کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
میئر نے واضح کیا کہ شہر میں مفت پارکنگ زونز کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ “جو لوگ عوام سے غیرقانونی پارکنگ فیس وصول کر رہے ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ کراچی کی سڑکیں چند افراد کے ذاتی مفاد کے لیے یرغمال نہیں بننے دی جائیں گی،” مرتضیٰ وہاب نے خبردار کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جن دکانداروں نے پہلے ہٹائی گئی تجاوزات کو دوبارہ قائم کیا، ان کی دکانیں بغیر کسی نوٹس کے سیل کر دی جائیں گی۔ اس کے علاوہ، میونسپل اداروں کا چوری شدہ سامان خریدنے یا فروخت کرنے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی ہوگی۔
ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کے لیے اجلاس میں شہر بھر میں غیر فعال ٹریفک سگنلز کی فوری بحالی اور نئی روڈ مارکنگ کی منظوری بھی دی گئی۔ میئر نے کہا، “شہری جلد ہی سڑکوں پر ٹریفک کے نظام میں نمایاں بہتری دیکھیں گے۔”
حکام کے مطابق، اس منصوبے کے لیے ایک جامع اور مربوط حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور میونسپل حکام کا قریبی تعاون شامل ہوگا۔
یہ اقدام شہر میں بڑھتی ہوئی عوامی شکایات، بدنظمی، فٹ پاتھوں کے خاتمے، اور سڑکوں پر بے قابو ٹریفک جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک سنجیدہ کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ آنے والے چند ہفتے اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ مہم واقعی کراچی کو ایک بہتر شہر بنانے میں کامیاب ہو پاتی ہے یا نہیں۔