کراچی:
شہر قائد میں بجلی کی طویل بندش نے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں، جس کے باعث شہری شدید مشکلات اور بے بسی کا شکار ہیں۔ حالیہ بارشوں کو کئی دن گزر جانے کے باوجود متعدد علاقوں میں بجلی تاحال مکمل طور پر بحال نہیں کی جا سکی۔
تفصیلات کے مطابق کے-الیکٹرک کا ٹرانسمیشن سسٹم بدستور مسائل کا شکار ہے، جہاں کئی فیڈرز، پی ایم ٹیز اور زیرِ زمین کیبلز کی خرابیاں اب تک دور نہیں کی جا سکیں۔ بجلی کی فراہمی میں مسلسل تعطل کے باوجود کے-الیکٹرک کی جانب سے نیپرا کو دی جانے والی یقین دہانیاں عملی طور پر پوری نہیں ہو رہیں۔
شہر کے بڑے حصے، جن میں موئن آباد، ماڈل کالونی، گلستانِ جوہر، گلشنِ اقبال، نارتھ ناظم آباد، سرجانی، اسکیم 33 اور گڈاپ شامل ہیں، گھنٹوں طویل لوڈشیڈنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔ کچھ علاقوں میں پانچ دن بعد بجلی بحال ہوئی لیکن فوراً دوبارہ بند کر دی گئی۔
سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں ماڈل کالونی، موئن آباد، امیر آباد اور صدیق آباد شامل ہیں، جہاں گزشتہ رات ایک بار پھر بجلی معطل ہو گئی۔ مقامی مکینوں کا کہنا ہے کہ رات گئے شروع ہونے والی بندش نے روزمرہ زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، گھریلو امور سے لے کر کاروبار اور پینے کے پانی کی فراہمی تک سب متاثر ہو رہا ہے۔ اسی دوران اسکیم 33 کی میرٹ سوسائٹی اورشادمان 14-بی جیسے علاقے بھی مسلسل ہیں، جس کے باعث لوگ مجبوری میں جنریٹر اور یو پی ایس پر انحصار کر رہے ہیں۔ مشتعل شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے کے-الیکٹرک اور شہری انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور فوری اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا تاکہ بجلی کی فراہمی بحال کی جا سکےلوڈشیڈنگ کی زد میں