سندھ ہائی کورٹ کی آئینی بنچ نے کراچی میں نافذ کیے گئے ای چالان سسٹم کے خلاف فوری حکمِ امتناع جاری کرنے سے انکار کرتے ہوئے ٹریفک پولیس کے ڈی آئی جی سمیت تمام متعلقہ محکموں کو نوٹس جاری کر دیے ہیں، تاکہ وہ متعدد دائر درخواستوں پر اپنا تفصیلی جواب جمع کرائیں۔
دو رکنی بنچ، جس کی سربراہی جسٹس عدنان اقبال چوہدری کر رہے تھے، نے منگل کے روز وہ درخواستیں سنیں جو جماعتِ اسلامی، مرکزی مسلم لیگ، بس اونرز ایسوسی ایشن اور مختلف شہریوں کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔ درخواست گزاروں نے ای چالان کے نفاذ اور اس کے قانونی جواز کو چیلنج کیا ہے۔
درخواست گزار وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ کراچی میں ٹریفک جرمانے لاہور کی نسبت کہیں زیادہ ہیں، جسے انہوں نے امتیازی سلوک قرار دیا۔ تاہم بنچ نے اس دلیل سے اتفاق نہیں کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ “ہر شہر کی اپنی حرکیات ہوتی ہیں، براہِ راست موازنہ مناسب نہیں۔”
بس مالکان کی جانب سے وکیل منصف جان نے شکایت کی کہ بسوں کو مسافر لینے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ عدالت نے واضح کیا، “تمام بسیں صرف مقررہ اسٹاپس پر ہی رک سکتی ہیں۔” وکیل نے جواب دیا کہ کراچی میں مناسب بس اسٹاپس ہیں ہی نہیں۔ اس پر جسٹس چوہدری نے کہا، “ہم خود اسی شہر میں رہتے ہیں، حالت سے واقف ہیں۔”
عدالت نے تمام فریقین کے جوابات کو یکجا سننے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 11 دسمبر تک ملتوی کر دی۔ درخواستوں میں صوبائی حکومت، چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس، ڈی آئی جی ٹریفک، نادرا، ایکسائز ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔
عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرکزی مسلم لیگ کے رہنما ندیم احمد اعوان نے ای چالان جرمانوں کو “غیر منصفانہ” قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ “نفاذ کے نام پر شہریوں سے زبردستی رقم وصول کی جا رہی ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ شہر کی خستہ حال سڑکیں اور ناکافی ٹریفک سہولیات اس نظام کو غیر عملی بناتی ہیں۔
اعوان نے مزید دعویٰ کیا کہ رفتار کی حد ظاہر کرنے والے بورڈز اس وقت لگائے گئے جب لاکھوں روپے جرمانوں کی مد میں وصول ہو چکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت نے عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے اور مطالبہ کیا کہ جب تک شہر میں بنیادی سہولیات بہتر نہیں ہوتیں، ای چالان سسٹم کو معطل کر دیا جائے۔