کراچی سے غزہ تک: پاکستانی اسٹارٹ اپ نے بچوں کو مصنوعی ہاتھ دے کر نئی زندگی دی

تحریر: جولائی 2025

اردن کے ایک پناہ گزین کیمپ میں جب آٹھ سالہ سدرا البردینی نے مصنوعی ہاتھ کے ساتھ پہلی بار سائیکل چلائی، تو اس کی ہنسی اردگرد گونجنے لگی۔ ایک سال پہلے جب وہ آخری بار سائیکل پر بیٹھی تھی، اس کے دونوں بازو سلامت تھے۔ لیکن غزہ پر ایک اسرائیلی حملے نے اس کا ایک بازو چھین لیا تھا۔
اب، 4,000 کلومیٹر دور کراچی میں بننے والا ایک نیا بازو اسے زندگی کی طرف لوٹا رہا ہے۔

سدرا اس وقت زخمی ہوئی جب نُصیرات اسکول — جو کہ اسرائیلی بمباری سے بچنے کے لیے عارضی پناہ گاہ بنایا گیا تھا — کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ غزہ کے تباہ حال اسپتال، بند سرحدیں اور طبی سہولیات کے فقدان نے اس کے ہاتھ کو بچانا ناممکن بنا دیا۔
اس کی ماں صبرین نے فون پر بات کرتے ہوئے بتایا، ’’وہ اب دوسروں بچوں کی طرح باہر کھیلتی ہے، سب اس کے نئے بازو کو حیرت سے دیکھ رہے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ آج میری بیٹی مسکرا رہی ہے۔‘‘

یہ ’’معجزہ‘‘ ممکن بنایا کراچی کے ایک جدید ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپ بایونکس نے، جو ایک سادہ اسمارٹ فون ایپ کی مدد سے تصاویر لے کر 3D ماڈل تیار کرتا ہے اور مخصوص ساخت کے مطابق مصنوعی بازو تیار کرتا ہے۔

کراچی میں بنا، غزہ میں زندگی بدلی

بایونکس کے بانی، انیس نیاز، کے مطابق کمپنی 2021 سے پاکستان میں 1,000 سے زائد بچوں کو مصنوعی بازو فراہم کر چکی ہے۔ مگر سدرا کا بازو بایونکس کی طرف سے جنگ زدہ علاقے میں پہلا بین الاقوامی عطیہ تھا۔

ماہ بھر کی ورچوئل مشاورت اور آن لائن ناپ تول کے بعد، کراچی میں ڈیزائن مکمل ہوا۔ پھر انیس نیاز خود اردن کے دارالحکومت عمان پہنچے — سدرا کے ساتھ تین سالہ حبابت اللہ کے لیے بھی بازو اور ٹانگ لے کر، جو غزہ میں ہونے والے ایک حملے میں اپنے دونوں بازو اور ایک ٹانگ سے محروم ہو گئی تھی۔

سدرا کا بازو عمان کے مفاز کلینک کی مالی مدد سے تیار کیا گیا، جبکہ حبابت کے لیے پاکستانی عوام کے عطیات استعمال ہوئے۔ مفاز کلینک کی سربراہ، انتصار اساکر، نے کہا:
’’بایونکس کے ساتھ کام کرنا آسان فیصلہ تھا۔ قیمت کم تھی، علاج کے لیے سفر کی ضرورت نہیں، اور ہر مسئلہ آن لائن حل ہو جاتا ہے۔ جنگ میں مبتلا بچوں کے لیے یہ سب کچھ ہے۔‘‘

سرحدوں سے ماورا جدت

جہاں امریکی ساختہ جدید مصنوعی بازو 10 سے 20 ہزار ڈالر میں آتے ہیں، وہیں بایونکس صرف 2,500 ڈالر میں بچوں کے لیے کارآمد حل فراہم کرتا ہے۔
اگرچہ ان میں چند جدید فیچرز کی کمی ہے، مگر چھوٹے بچوں کے لیے یہ بازو کافی حد تک مددگار ہیں — خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں کوئی اور متبادل نہیں۔

انیس نیاز کہتے ہیں، ’’جنگی علاقوں میں بچوں کے لیے مصنوعی اعضا کا پہنچنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ ہم یہ بدلنا چاہتے ہیں۔ ہماری اگلی منزل یوکرین جیسے دیگر تنازع زدہ علاقے ہیں۔‘‘

بچوں کے لیے دل جوڑنے والی ڈیزائننگ

بایونکس بچوں کے لیے بازو میں دل چسپ کریکٹرز جیسے آئرن مین یا فروزن کی ایلسا جیسے ڈیزائن بھی شامل کرتا ہے تاکہ وہ آسانی سے بازو کو اپنائیں۔ سدرا نے اپنے نئے بازو پر گلابی رنگ کا ایک خوبصورت بریسلٹ پہنا، جو اس کے لیے جذباتی وابستگی کا باعث بن گیا۔

اس کا پہلا کام؟ دل بنانا — وہ دل جس کے لیے پچھلے کئی مہینوں سے اسے دوسروں کی مدد چاہیے ہوتی تھی۔ اب، اس نے خود دل بنایا، تصویر لی، اور اپنے والد کو بھیجی — جو اب بھی غزہ میں محصور ہیں۔

’’جب میں اپنے ابو سے ملوں گی،‘‘ اس نے دھیمی آواز میں کہا، ’’تو میں دونوں ہاتھوں سے انہیں گلے لگاؤں گی۔‘‘

ایک بڑھتا ہوا بحران

اقوام متحدہ کی انسانی ہمدردی کی ایجنسی (OCHA) کے مطابق، غزہ اس وقت بچوں کے اعضا ضائع ہونے کے اعتبار سے دنیا کا بدترین بحران بن چکا ہے۔ صرف حالیہ جنگ میں 4,500 سے زائد بچے اپنے ہاتھ، ٹانگیں یا بازو کھو چکے ہیں۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق غزہ کا صحت کا نظام ’’گھٹنوں کے بل‘‘ آ چکا ہے۔ اسپتال تباہ، سرحدیں بند، اور علاج کے لیے نہ تو دوا ہے، نہ سہولت۔

لیڈز، برطانیہ میں قائم پروایکٹیو پروستیٹک کلینک کے مینیجر اسداللہ خان کہتے ہیں، ’’جب مریض اور معالج مل بھی نہیں سکتے، وہاں بایونکس جیسے ریموٹ حل امید کی کرن بن جاتے ہیں۔‘‘

انیس نیاز اور ان کی ٹیم بھی یہی امید رکھتے ہیں — کہ وہ ایک ایسا نظام تیار کریں جو پوری دنیا کے ضرورت مند بچوں تک پہنچ سکے۔

More From Author

کراچی کی روح کو جلا بخشنے والے امام بارگاہیں

پاکستان کا اربیعین زائرین کے لیے فیری سروس شروع کرنے اور پروازوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے