کراچی – 25 جولائی، 2025
کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے ایک ملازم کو خاتون مسافر کا سامان چوری کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے — ایک ایسا واقعہ جو ملک کے ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی کے بارے میں سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار شخص کی شناخت طارق علی کے نام سے ہوئی ہے، جو پی آئی اے کے انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ ہے۔ یہ واقعہ لاہور سے آنے والی پرواز PK-305 کے لینڈ کرنے کے فوراً بعد پیش آیا، جب ایک خاتون مسافر نے شکایت درج کروائی کہ اس کا بیگ غائب ہے۔
شکایت موصول ہونے پر ایئرپورٹ حکام نے فوری طور پر تفتیش کا آغاز کیا۔ ابتدائی تحقیقات اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے بعد طارق علی پر شک کا دائرہ تنگ ہوا، اور حکام نے ایک مختصر مزاحمت کے بعد اسے حراست میں لے لیا۔
ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، ’’کراچی ایئرپورٹ انتظامیہ کے تعاون سے مسافر کا گمشدہ بیگ، جس میں اس کی ذاتی اشیاء تھیں، بازیاب کر لیا گیا ہے۔‘‘
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (PAA) نے طارق علی کو مزید تحقیقات کے لیے ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس (ASF) کے حوالے کر دیا ہے، جب کہ اس کا ایئرپورٹ انٹری پاس فوری طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔
پی آئی اے کی جانب سے بھی داخلی سطح پر انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔ ترجمان پی آئی اے کا کہنا تھا، ’’اس طرح کے واقعات قومی ایئرلائن کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں اور ہم اس کی ہرگز اجازت نہیں دے سکتے۔‘‘
ASF حکام نے عینی شاہدین کے بیانات لینے اور مزید ویڈیو شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ابتدائی رپورٹ آئندہ چند روز میں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا اور مسافروں میں تشویش کی لہر پیدا کر چکا ہے۔ بہت سے شہریوں نے ایئرلائنز کے عملے پر کڑی نگرانی اور ایسی حرکات میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اگرچہ ہوائی اڈوں پر چوری کے واقعات نئے نہیں، لیکن ایک قومی ایئرلائن کے ملازم کا ملوث ہونا یقینی طور پر انتظامیہ اور اداروں کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات شفاف اور برق رفتاری سے کی جا رہی ہیں، اور عوام کو یقین دلایا گیا ہے کہ قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ تاہم متاثرہ مسافر کے لیے یہ واقعہ ایک عام سی پرواز کو ایک تلخ یاد میں بدل چکا ہے۔