کراچی – جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر جمعہ کے روز دو مختلف پروازیں خطرناک حادثے سے اس وقت بال بال بچ گئیں ج لینڈنگ کے دوران ان کے ساتھ پرندوں کے ٹکراؤ (برڈ اسٹرائیک) کے واقعات پیش آئے۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) کے ذرائع کے مطابق پہلا واقعہ لاہور سے کراچی آنے والی ایک نجی ایئرلائن کی پرواز کے ساتھ پیش آیا جس میں 150 سے زائد مسافر سوار تھے۔ لینڈنگ کے دوران طیارہ پرندے سے ٹکرا گیا۔ پائلٹ نے فوری طور پر کراچی ایئر ٹریفک کنٹرول (ATC) کو مطلع کیا۔ خوش قسمتی سے طیارہ بحفاظت لینڈ کر گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اس واقعے سے چند لمحے قبل ایک غیر ملکی ایئرلائن کی پرواز بھی اسی قسم کے برڈ اسٹرائیک کا شکار ہوئی، جب وہ کراچی ایئرپورٹ پر اترنے ہی والی تھی۔ دونوں صورتوں میں پائلٹس نے حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایمرجنسی پروٹوکول پر عمل کیا اور سنگین حادثے سے بچا لیا۔
ایوی ایشن ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ مون سون بارشوں کے باعث ایئرپورٹ کے اطراف میں کیڑوں کی افزائش میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے پرندوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہی پرندے اب رن وے اور اطراف کے علاقوں میں خطرہ بن چکے ہیں۔ برڈ اسٹرائیک طیاروں کے انجن کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور بعض صورتوں میں یہ حادثات کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نے فوری ہدایات جاری کی ہیں جن کے تحت ایئرپورٹ کے اندر اور اطراف میں فومیگیشن (جراثیم کش اسپرے) بڑھا دی گئی ہے، جب کہ تربیت یافتہ برڈ شوٹرز کی اضافی ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں تاکہ پرندوں کو رن وے سے دور رکھا جا سکے۔
ایئرپورٹ انتظامیہ نے قریبی علاقوں کے مکینوں اور کاروباری افراد سے بھی اپیل کی ہے کہ کھلے عام کچرا پھینکنے سے گریز کریں اور ایسی سرگرمیوں سے بچیں جو پرندوں کو اپنی طرف راغب کرتی ہیں۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا ہے کہ وہ فضائی سفر کو محفوظ بنانے کے لیے مکمل طور پر متحرک ہے اور مزید حفاظتی اقدامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
کراچی جیسے مصروف ایئرپورٹ پر ان واقعات نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ فضائی ماہرین کو کن غیر متوقع خطرات کا سامنا ہوتا ہے — اور بروقت ردعمل اور سخت حفاظتی تدابیر کیوں ضروری ہیں۔