اسلام آباد | 25 جولائی 2025
پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار جمعہ کے روز واشنگٹن میں امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو سے اہم ملاقات کریں گے، جسے دفتر خارجہ نے ایک ’’اہم سفارتی پیش رفت‘‘ قرار دیا ہے۔ اس ملاقات میں نہ صرف دو طرفہ تعلقات بلکہ مشرق وسطیٰ، ایران، جنوبی ایشیا کی صورتحال اور پاک-بھارت تعلقات جیسے حساس معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ میں اس ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے کہا،
"ملاقات میں دو طرفہ امور کے مکمل ایجنڈے کے علاوہ خطے اور عالمی سطح پر پیش آنے والے اہم معاملات بھی زیرِ بحث آئیں گے۔ پاک-بھارت تعلقات کا موضوع بھی اس گفتگو کا حصہ ہوگا۔”
ترجمان نے پاکستان کی جانب سے امریکہ کے ان اقدامات کو سراہا جن کے باعث حالیہ پاک-بھارت کشیدگی میں کمی آئی اور خطے میں وقتی سکون بحال ہوا۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ایک طویل جمود کے بعد دوبارہ سرگرم ہو رہے ہیں۔ صدر بائیڈن کے دور میں اسلام آباد کو خاصی حد تک نظر انداز کیا گیا، اور وزارتی سطح پر روابط نہ ہونے کے برابر تھے۔ تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسری مدتِ صدارت سنبھالنے کے بعد صورتحال میں واضح تبدیلی دیکھی گئی۔
دونوں ممالک کے تعلقات میں برف اس وقت پگھلنا شروع ہوئی جب پاکستان نے 2021 میں کابل کے ایبی گیٹ بم دھماکے کے ایک مرکزی منصوبہ ساز کی گرفتاری میں امریکی انٹیلیجنس سے تعاون کیا۔ اس اقدام پر صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے خطاب میں پاکستان کی انسداد دہشت گردی پالیسی کو سراہا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ تعاون کے دروازے کھلے۔
بعدازاں مئی میں پہلگام حملے کے بعد پاک-بھارت تناؤ میں امریکی مداخلت کے ذریعے سیز فائر ہوا، جس پر اسلام آباد نے امریکہ کی کوششوں کو سراہا، مگر نئی دہلی نے ان دعووں کو چیلنج کیا۔
اس سے بڑھ کر، پاکستان نے صدر ٹرمپ کو جنوبی ایشیائی کشیدگی میں کمی کے لیے ان کی ’’بہادر قیادت‘‘ پر نوبیل امن انعام کے لیے نامزد بھی کیا — ایک سفارتی طور پر غیر معمولی قدم۔
کشمیر اور سندھ طاس معاہدہ ایجنڈے پر شامل
جب ترجمان سے پوچھا گیا کہ آیا کشمیر اور سندھ طاس معاہدہ (IWT) بھی زیرِ بحث آئیں گے، تو انہوں نے واضح کیا کہ یہ دونوں موضوعات پاکستان کی خارجہ پالیسی کے مرکزی نکات میں شامل ہیں اور واشنگٹن میں سیکریٹری روبیو سے ملاقات میں ان پر گفتگو متوقع ہے۔
صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان — جس میں انہوں نے ایک ممکنہ جوہری بحران کو ٹالنے کا کریڈٹ لیا — کے جواب میں شفقت علی خان نے محتاط لیکن واضح مؤقف اپنایا:
"ہم نے ہمیشہ دوست ممالک، بشمول امریکہ، کے کردار کو تسلیم کیا ہے۔ اُس بحران کی حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں۔”
بھارت کے ساتھ بات چیت کے امکان پر تبصرہ کرتے ہوئے ترجمان نے ایک بار پھر پاکستان کی آمادگی ظاہر کی، مگر ذمہ داری نئی دہلی پر ڈالی۔
"پاکستان ہمیشہ سے پرامن مذاکرات کا خواہاں رہا ہے۔ لیکن حتمی فیصلہ بھارت کو کرنا ہے کہ وہ کس راستے کا انتخاب کرتا ہے۔ سفارتی مکالمہ کسی ایک ملک کی رعایت نہیں، بلکہ دونوں ممالک اور پورے خطے کے امن کے لیے ضروری ہے۔”
کابل سے تعلقات میں بہتری کا تسلسل
دفتر خارجہ کے ترجمان نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ دورہ افغانستان کو بھی "نہایت کامیاب” قرار دیا، اور کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں آنے والی بہتری کا عکاس ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ اس سے قبل وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار نے اپریل میں کابل کا دورہ کیا تھا، جسے انہوں نے پاک-افغان تعلقات میں "سنگِ میل” قرار دیا۔
"ہماری افغان حکومت سے ملاقاتیں مثبت سمت میں گامزن ہیں۔ دونوں ممالک مسلسل سفارتی فوائد کو مضبوط کر رہے ہیں اور طویل المدتی تعاون کے لیے پرعزم ہیں،” ترجمان نے کہا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزیر داخلہ کے دورے میں سلامتی اور انسداد دہشت گردی کو بنیادی اہمیت حاصل رہی — وہ معاملات جو پاک-افغان تعلقات کے کلیدی نکات سمجھے جاتے ہیں۔
"ہم نے بارہا افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ افغان فریق ان خدشات پر توجہ دے رہا ہے، اور تکنیکی سطح پر بات چیت جاری ہے۔ سیاسی طور پر، یہ دورہ اپنے مقاصد حاصل کر چکا ہے۔”
آخر میں ترجمان شفقت علی خان نے اس بات پر زور دیا کہ سلامتی سے متعلق تعاون کو صرف سیکورٹی تناظر میں نہیں بلکہ دو ’’برادر ہمسایہ ممالک‘‘ کے باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، تاکہ خطے میں دیرپا امن ممکن ہو۔