چین میں ایس سی او اجلاس: پاکستان اور بھارت کے وزرائے دفاع آمنے سامنے

گزشتہ ماہ کی فوجی جھڑپ کے بعد پہلی ممکنہ براہِ راست ملاقات کا امکان

چنگ ڈاؤ، چین: ایک غیرمعمولی سفارتی پیش رفت میں، پاکستان اور بھارت کے وزرائے دفاع ایک ہی بین الاقوامی پلیٹ فارم پر شریک ہیں — جو گزشتہ ماہ کی مختصر مگر کشیدہ فوجی جھڑپ کے بعد پہلی مرتبہ ہو رہا ہے۔ وزیرِ دفاع خواجہ آصف اور ان کے بھارتی ہم منصب راج ناتھ سنگھ، اس وقت چین کے ساحلی شہر چنگ ڈاؤ میں جاری شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے وزرائے دفاع کے اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

یہ دو روزہ اجلاس چینی وزیر دفاع ڈونگ جون کی میزبانی میں منعقد ہو رہا ہے جس میں ایس سی او کے تمام رکن ممالک کے اعلیٰ عسکری حکام شریک ہیں۔ اگرچہ پاکستان اور بھارت کے وزرائے دفاع کے درمیان کسی باضابطہ ملاقات کی تصدیق نہیں ہوئی، لیکن ذرائع کے مطابق اجلاس کی سائیڈ لائنز پر دونوں کے درمیان مختصر ملاقات کا امکان ہے — جو "معرکۂ حق” کے بعد پہلا براہِ راست رابطہ ہوگا۔

اجلاس کے پہلے روز چینی وزیرِ دفاع نے بیلاروس، ایران، پاکستان، کرغزستان اور روس کے وزرائے دفاع سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں ڈونگ جون نے بین الاقوامی انصاف، اسٹریٹجک استحکام اور کثیرالجہتی اصولوں کی اہمیت پر زور دیا۔

وزرائے دفاع کے اس اجلاس سے قبل منگل کے روز ایس سی او رکن ممالک کے قومی سلامتی مشیروں اور سلامتی کونسل کے سیکرٹریز کا اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں پاکستان کی نمائندگی قومی سلامتی کے مشیر (NSA) نے کی۔ اس اجلاس میں چینی قیادت اور دیگر شریک ممالک کے وفود سے ملاقاتیں ہوئیں جن میں دوطرفہ سلامتی تعاون بڑھانے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار پر بات چیت کی گئی۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق، مشیرِ قومی سلامتی نے پاکستان کے اُس وژن کا اعادہ کیا جس میں ملک کو "علاقائی استحکام کا ضامن” قرار دیا گیا ہے، اور کہا کہ پاکستان اپنے ہمسایوں کے ساتھ پرامن تعلقات کا خواہاں ہے۔

اسی دوران چین کے وزیرِ عوامی تحفظ، وانگ ژیاو ہونگ نے بھی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایس سی او ممالک کے درمیان قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی کے شعبے میں عملی تعاون کو مزید گہرا کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے پانچ نکاتی ایجنڈا پیش کیا جس میں حقیقی کثیرالجہتی اپنانے، عالمی چیلنجز کے مشترکہ حل نکالنے، بیرونی مداخلت کے خلاف مشترکہ مزاحمت، انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیتوں میں اضافہ، اور سرحد پار جرائم سے نمٹنے کے لیے مربوط طریقہ کار اپنانے کی تجاویز شامل تھیں۔

ایس سی او کا یہ پلیٹ فارم ایسے وقت میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ مکالمے کا نادر موقع فراہم کر رہا ہے جب خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ مبصرین اسے کشیدگی میں کمی کی ایک اہم سفارتی راہداری قرار دے رہے ہیں۔

More From Author

ٹرمپ کا اسرائیل سے مطالبہ: نیتن یاہو کا ٹرائل ختم کیا جائے یا فوراً معافی دی جائے

’’باعزت اور عظیم شخصیت‘‘ – ٹرمپ کا ایک بار پھر فیلڈ مارشل منیر کو خراج تحسین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے