چینی کی قیمت بے لگام اضافے کے بعد 165 روپے فی کلو مقرر

اسلام آباد: ملک بھر میں چینی کی قیمتوں میں کئی ہفتے سے جاری تیز اضافے کے بعد وفاقی حکومت نے شوگر انڈسٹری سے معاہدہ کر لیا ہے جس کے تحت چینی کی ایکس مل قیمت 165 روپے فی کلو مقرر کر دی گئی ہے۔ یہ اعلان پیر کے روز وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے کیا گیا۔

وزارت کی مختصر پریس ریلیز کے مطابق تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ اس فیصلے کی روشنی میں عوام کو سستی چینی کی فراہمی یقینی بنائیں۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حال ہی میں وفاقی کابینہ نے مقامی سطح پر چینی کی قیمتوں میں استحکام لانے کیلئے پانچ لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کی منظوری دی تھی۔ حکومت کی جانب سے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ “کمیٹی نے ملک بھر میں چینی کی دستیابی اور قیمتوں میں استحکام کیلئے 500,000 میٹرک ٹن تک چینی کی درآمد کی منظوری دے دی ہے۔”

رواں سال مارچ میں ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے چینی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے پر شوگر مل مالکان کو انتباہ کیا تھا اور کہا تھا کہ چینی کی ریٹیل قیمت 164 روپے فی کلو سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ اس وقت مارکیٹ میں چینی 178 سے 179 روپے کلو تک فروخت ہو رہی تھی جسے وزیراعظم نے “ناقابل قبول” قرار دیا تھا۔

تاہم حکومتی قیمتوں کے تعین کے باوجود مارکیٹ میں چینی من مانے ریٹ پر فروخت ہو رہی ہے۔ لاہور میں صارفین شکایت کر رہے ہیں کہ چینی 190 سے 210 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے اور کہیں بھی سرکاری نرخ 180 روپے فی کلو پر دستیاب نہیں۔

کراچی میں تھوک فروشوں کی تنظیم کے چیئرمین رؤف ابراہیم نے بتایا کہ سندھ اور پنجاب کی شوگر ملوں نے گزشتہ جمعہ سے چینی کی سپلائی مارکیٹ میں روک رکھی ہے جس سے مصنوعی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا، “گزشتہ چار روز سے صرف ذخیرہ شدہ چینی فروخت ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے تھوک قیمت 178-180 روپے سے بڑھ کر 182 روپے کلو اور ریٹیل قیمت 190-195 روپے سے بڑھ کر 200 روپے فی کلو ہو گئی ہے۔”

رؤف ابراہیم نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شوگر مل مالکان اور ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کارروائی نہ کرنا قیمتوں کے بحران کو مزید ہوا دے رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اس اضافے کی اصل وجہ شوگر مل مالکان کا گٹھ جوڑ ہے جو ہمیشہ حکومت پر دباؤ ڈال کر اضافی اسٹاک کے نام پر ایکسپورٹ کی اجازت حاصل کرتے ہیں جس سے مقامی مارکیٹ میں قلت پیدا ہوتی ہے اور قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ 2015 سے 2020 کے دوران پاکستان نے افغانستان کو 2.355 ملین میٹرک ٹن چینی برآمد کی، جبکہ افغان اعداد و شمار کے مطابق وہاں صرف 1.5 ملین ٹن پہنچی۔ باقی 778,000 ٹن چینی بغیر کسی ریکارڈ کے اسمگل کر دی گئی۔

دستاویزات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ماضی میں 26 ملوں کو 400,000 ٹن چینی برآمد کرنے کیلئے اربوں روپے کی سبسڈی دی گئی، اور 2021 تک یہ سبسڈی 4.12 ارب روپے تک جا پہنچی تھی۔ رواں سال کے آغاز میں جب 750,000 ٹن چینی برآمد کی گئی تو مقامی قیمت 140 روپے فی کلو سے بڑھ کر 170 روپے تک جا پہنچی۔ اس کے بعد حکومت نے ایکس مل ریٹ میں مزید 20 روپے کا اضافہ کیا لیکن مارکیٹ میں قیمت 200 روپے فی کلو سے بھی تجاوز کر گئی، جس کے بعد حکومت کو ایک بار پھر درآمد کا فیصلہ کرنا پڑا۔

آئی ایم ایف کی 2021 کے بعد کی شرائط کے تحت حکومت پر چینی کی برآمدات پر سبسڈی یا کم از کم قیمت مقرر کرنے پر پابندی ہے کیونکہ فنڈ ملک میں شوگر سیکٹر کی مکمل ڈی ریگولیشن چاہتا ہے۔

More From Author

حکومت کا آئندہ سال کے لیے حج کوٹہ بڑھانے کا فیصلہ

اورنگزیب کی ملک گیر ہڑتال روکنے کیلئے مذاکرات کی پیشکش

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے