لاہور، 27 اگست 2025 – پنجاب کے مختلف اضلاع میں شدید بارشوں اور بڑھتے ہوئے دریا کے بہاؤ نے صورتحال کو تشویشناک بنا دیا ہے۔ سب سے زیادہ بارش سیالکوٹ میں ریکارڈ کی گئی، جہاں صرف 24 گھنٹوں کے دوران 364 ملی میٹر بارش ہوئی، جو جولائی 1961 میں قائم 299.2 ملی میٹر کے پرانے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ گئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سیالکوٹ ایئرپورٹ پر بھی 198 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
دریائے چناب میں مرالہ ہیڈورکس کے مقام پر انتہائی بلند سطح کا سیلاب دیکھنے میں آیا۔ حکام کے مطابق دریا میں پانی کا بہاؤ 6 لاکھ 71 ہزار 148 کیوسک اور اخراج 6 لاکھ 64 ہزار 618 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جو اس کی زیادہ سے زیادہ گنجائش 11 لاکھ کیوسک کے قریب ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے الرٹ جاری کرتے ہوئے نشیبی اور حساس علاقوں کے مکینوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی شدید بارشیں ریکارڈ ہوئیں۔ گجرات میں 115 ملی میٹر، نارووال میں 102 ملی میٹر، منگلا میں 48 ملی میٹر، جہلم میں 47 ملی میٹر، گوجرانوالہ میں 34 ملی میٹر اور لاہور شہر میں 27 ملی میٹر بارش ہوئی۔
ادھر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے اعلان کیا ہے کہ آج دوپہر ساڑھے بارہ بجے تربیلا ڈیم کے اسپل ویز کھولے جائیں گے تاکہ 2 لاکھ 50 ہزار کیوسک پانی کا اخراج ممکن بنایا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بھارت کی بالائی ریاستوں میں مزید بارشیں پاکستان کے دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح کو مزید بلند کر سکتی ہیں۔
این ڈی ایم اے نے اپنے ایڈوائزری میں خبردار کیا ہے کہ آئندہ 12 سے 24 گھنٹے گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، لاہور، قصور، جہلم، چکوال، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، ننکانہ صاحب، چونیاں اور پاکپتن کے لیے نہایت اہم ہوں گے۔ شہری علاقوں میں نشیبی مقامات پر پانی جمع ہونے اور دریاؤں کے شانہ بشانہ پانی کی سطح بلند ہونے کے خدشات برقرار ہیں۔
لاہور میں بھی صورتحال تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جہاں دریائے راوی میں 23 ہزار کیوسک پانی داخل ہو چکا ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگلے 48 گھنٹوں میں انتہائی بلند سطح کا سیلاب آ سکتا ہے۔
اسی طرح دریائے ستلج میں بھی پانی کی سطح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ بھارت کی جانب سے مزید پانی چھوڑنے کے بعد وہاڑی کی تحصیل بوریوالا کی کئی بستیاں زیرِ آب آ گئی ہیں۔ اسلام ہیڈورکس پر پانی کا بہاؤ 48 ہزار 564 کیوسک اور اخراج 46 ہزار 564 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ پانی کے اس طوفان نے ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلوں کو تباہ کر دیا ہے جس سے کسانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے