خیمہ اسکولوں کا قیام، متاثرہ علاقوں میں عارضی کلاسز جاری
لاہور:
پنجاب میں حالیہ تاریخ کے بدترین سیلاب نے صوبے بھر میں تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں دو ہزار سے زائد اسکول یا تو ڈوب گئے ہیں یا بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ہزاروں بچے کلاس رومز سے محروم ہو گئے ہیں جبکہ درجنوں تعلیمی ادارے بے گھر خاندانوں کے عارضی پناہ گزین مراکز میں بدل گئے ہیں۔
ضلع بہ ضلع تباہی کے مناظر سامنے آ رہے ہیں۔ قصور میں سو سے زائد اسکول ناقابلِ استعمال قرار دیے گئے ہیں جبکہ چنیوٹ میں تقریباً 90 تعلیمی ادارے بند ہیں۔ سیالکوٹ، نارووال، ملتان اور مظفرگڑھ میں بھی درجنوں اسکول یا تو زیرِ آب ہیں یا ماہرین نے انہیں غیر محفوظ قرار دیا ہے۔ لاہور میں 45 اسکول تاحال بند ہیں جن میں سے کئی سیلاب متاثرہ خاندانوں کو پناہ دینے کے لیے کھول دیے گئے ہیں۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن پنجاب کے ذرائع کے مطابق کم از کم 66 اسکول اس وقت تک نہیں کھولے جا سکیں گے جب تک ان کی مکمل جانچ پڑتال کر کے انہیں محفوظ قرار نہیں دیا جاتا۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق عمارتوں کی بحالی پر اربوں روپے خرچ ہوں گے اور یہ عمل کئی ماہ پر محیط ہوگا۔
اسکول پناہ گاہوں میں تبدیل
دیہی علاقوں میں اسکولوں کی عمارتیں زندہ رہنے کی جدوجہد کا مرکز بن گئی ہیں۔ دریا کنارے اور نچلی زمینوں سے بے دخل ہونے والے خاندان اسکولوں کے کمروں میں مقیم ہیں۔ وہی صحن جہاں کبھی بچوں کے کھیل اور اسباق گونجتے تھے، اب کھانا پکانے اور عارضی رہائش کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
ڈراپ آؤٹ اور تعلیمی خلا کا خطرہ
تعلیمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس بحران کے دیرپا اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔ اسکول چھوڑنے کی شرح میں اضافہ، بچوں کو تعلیم کی بجائے مزدوری پر مجبور ہونا اور دیہی علاقوں میں شرح خواندگی کا مزید گرنا، ایسے خدشات ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں آن لائن یا ڈیجیٹل تعلیم تک رسائی نہ ہونے کے برابر ہے۔
حکومت کا ردعمل
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے عالمی یومِ خواندگی کے موقع پر اس بحران کا اعتراف کیا اور بتایا کہ دو ہزار سے زائد اسکول متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے والدین کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت بچوں کے مستقبل کو سیلاب کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑے گی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر متاثرہ علاقوں میں ریلیف کیمپوں کے اندر خیمہ اسکول قائم کیے گئے ہیں تاکہ بچوں کی تعلیم عارضی طور پر جاری رکھی جا سکے۔ وزیر تعلیم نے ان خیمہ اسکولوں کا دورہ کیا اور کہا کہ بچوں کی حوصلہ مندی اور عزم نے حکومت کے ارادے کو مزید مضبوط کیا ہے کہ کوئی بچہ تعلیم کے خواب سے محروم نہ رہے۔
بحالی کا کٹھن سفر
محکمہ جات کو ہدایت دی گئی ہے کہ فوری طور پر حفاظتی سروے مکمل کریں جبکہ ڈپٹی کمشنرز کو اسکولوں کی جانچ پڑتال کے بعد ہی دوبارہ کھولنے کی اجازت دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بھاری اخراجات اور متاثرہ بچوں کی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے تعلیم کی بحالی کا سفر طویل اور مشکل ہوگا۔