لاہور – پنجاب کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی ذبح خانوں پر کریک ڈاؤن کے دوران حکام نے ہزاروں کلو مضرِ صحت گوشت برآمد کر لیا، جس کے بعد شہریوں کو سنگین صحت کے خدشات کے پیشِ نظر محتاط رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی۔
نیووال اور میانوالی میں کی جانے والی ہدفی کارروائیوں میں پنجاب فوڈ اتھارٹی (پی ایف اے) اور محکمہ لائیو اسٹاک کی مشترکہ ٹیموں نے بیمار جانوروں سے حاصل کیا گیا گوشت ضبط کیا۔ تمام گوشت موقع پر ہی تلف کر دیا گیا جبکہ غیر قانونی ذبح خانے چلانے والوں کے خلاف متعدد مقدمات درج کر لیے گئے۔
پی ایف اے کے مطابق نیووال کے بلاک نمبر 2 اور لکڑ منڈی علاقوں میں چھاپوں کے دوران 7 ہزار کلو ناقص گوشت پکڑا گیا، جو مختلف اضلاع میں سپلائی کیا جانا تھا۔ چھاپہ مار ٹیم کو دیکھ کر ذبح خانوں کے مالکان نے گوشت چھپانے کی کوشش میں اسے گھروں کے بستروں اور درازوں میں ٹھونس دیا، مگر اہلکاروں نے تمام گوشت برآمد کر کے تلف کر دیا۔
ڈائریکٹر آپریشنز ساؤتھ زبیر احمد اعجاز نے بتایا کہ ان ذبح خانوں کی کئی دن سے نگرانی کی جا رہی تھی، جس کے بعد سات ملزمان کی گرفتاری اور مقدمات کا اندراج عمل میں آیا۔
دوسری جانب پی ایف اے نے میانوالی کی تحصیل پپلاں میں تین مزید غیر قانونی ذبح خانے سیل کر دیے، جہاں سے دس من ناقص گوشت برآمد ہوا اور موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔ ویٹرنری ماہرین نے اس گوشت کو انسانی صحت کے لیے ’’انتہائی خطرناک‘‘ قرار دیا۔
پی ایف اے کے ترجمان نے تصدیق کی کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر صوبہ بھر میں ناقص گوشت کے خلاف سخت کارروائیاں جاری ہیں۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ مضرِ صحت گوشت کی کسی بھی اطلاع یا شکایت کی صورت میں فوری طور پر فوڈ اتھارٹی ہیلپ لائن 1223 پر رابطہ کریں۔