واشنگٹن: عالمی بینک نے پاکستان میں پرائمری تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے 4 کروڑ 79 لاکھ ڈالر کا گرانٹ منظور کر لیا ہے، جس کا زیادہ تر فوکس صوبہ پنجاب پر ہوگا۔ اس منصوبے کے تحت قبل از وقت بچپن کی تعلیم کو وسعت دی جائے گی، اسکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیمی اداروں میں لایا جائے گا اور اساتذہ کی تربیت و معاونت کو مضبوط بنایا جائے گا۔
یہ گرانٹ "گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن فنڈ” کے تحت فراہم کی گئی ہے، جس کا مقصد پری پرائمری اور پرائمری سطح پر بچوں کے داخلے میں اضافہ کرنا اور تعلیمی نتائج کو بہتر بنانا ہے۔ منصوبے میں کمزور طلبہ کے لیے ری میڈیل پروگرامز شامل ہیں جبکہ تعلیم کے نظام کو ماحولیاتی تبدیلیوں اور ہنگامی حالات سے ہم آہنگ کرنے کے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔
عالمی بینک کی پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازر نے کہا:
“یہ منصوبہ سیکھنے میں درپیش مشکلات کو کم کرنے اور پنجاب میں معیاری تعلیم تک مساوی رسائی کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ بنیادی تعلیم کو مضبوط بنا کر، نظامی صلاحیت کو بہتر کر کے اور رویوں میں مثبت تبدیلی لا کر یہ منصوبہ انسانی سرمائے کی ترقی اور طویل المدتی معاشی نمو میں اہم کردار ادا کرے گا۔”
تفصیلات کے مطابق اس منصوبے سے 40 لاکھ سے زائد بچے مستفید ہوں گے۔ ان میں 80 ہزار ایسے بچے شامل ہیں جو اس وقت اسکول سے باہر ہیں، 30 لاکھ سے زائد بچے جو محکمہ اسکول ایجوکیشن کے تحت تعلیم حاصل کر رہے ہیں، تقریباً 8 لاکھ 50 ہزار طلبہ غیر رسمی تعلیمی شعبے میں شامل ہیں جبکہ 1 لاکھ 40 ہزار خصوصی بچے محکمہ اسپیشل ایجوکیشن کے اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔ اس کے علاوہ ایک لاکھ سے زائد اساتذہ اور اسکول لیڈرز کو بھی تربیت فراہم کی جائے گی جبکہ والدین اور برادری کو بھی شعور اجاگر کرنے کی مہمات کے ذریعے شامل کیا جائے گا۔ منصوبے کی ٹیم لیڈر عزا فراح نے کہا کہ یہ اقدام پنجاب حکومت کے تعلیمی اصلاحات کے وسیع ایجنڈے سے ہم آہنگ ہے جس کا مقصد ایک ایسا تعلیمی نظام قائم کرنا ہے جو زیادہ شمولیتی، مؤثر اور جوابدہ ہو