پنجاب حکومت نے صوبے میں بغیر قانونی دستاویزات رہنے والے افغان شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، اور اس سلسلے میں ایسے افراد کی اطلاع دینے والوں کے لیے 10 ہزار روپے انعام بھی مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق اس انعام کا مقصد عوام کو اس بات پر آمادہ کرنا ہے کہ وہ ایسے افغان باشندوں کی نشاندہی کریں جو صوبے میں بغیر اجازت مقیم ہیں یا جعلی شناختی کارڈ استعمال کر رہے ہیں۔ کارروائی کا دائرہ کئی قسم کی خلاف ورزیوں پر مشتمل ہے، جن میں بغیر درست کاغذات رہائش، جعلی یا چھیڑ چھاڑ شدہ شناختی کارڈ کا استعمال، اور قانونی اجازت کے بغیر کاروبار چلانا شامل ہیں۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ ایسے افراد کی مدد کرنے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مخبروں کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی تاکہ لوگ بلا خوف و خطر معلومات فراہم کر سکیں۔
اس کے ساتھ ہی دکانداروں، مکان مالکان اور پراپرٹی ڈیلرز کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ افغان شہریوں کو جگہ دینے سے پہلے ان کے دستاویزات کی لازمی جانچ پڑتال کریں، ورنہ کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حکام کا ماننا ہے کہ شہریوں کا تعاون اس مہم کی کامیابی کے لیے نہایت ضروری ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حالیہ ہفتوں میں گرفتاریوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کئی افغان شہریوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے، جبکہ متعدد کو ضروری قانونی دستاویزات نہ ہونے پر ملک بدر بھی کر دیا گیا ہے۔
حکام کو امید ہے کہ انعامی نظام متعارف کرانے سے یہ خصوصی مہم مزید تیز اور مؤثر ثابت ہوگی۔