ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک غیر معمولی پیشرفت نے سب کو چونکا دیا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے ابھرتی ہوئی کمپنی پریپلیکسی اے آئی نے گوگل کروم کو 34.5 ارب ڈالر میں خریدنے کی پیشکش کر دی ہے — حالانکہ ماہرین کے مطابق یہ رقم کروم کی اصل مارکیٹ ویلیو کا ایک معمولی حصہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بھی واضح نہیں کہ کروم فروخت کے لیے دستیاب ہے یا نہیں۔
پریپلیکسی، جس کی قیادت گوگل اور اوپن اے آئی کے سابق ایگزیکٹو کر رہے ہیں اور جس میں جیف بیزوس اور انوڈیا جیسے بڑے سرمایہ کار شامل ہیں، حال ہی میں اپنی نئی اے آئی پر مبنی براؤزر کومیٹ متعارف کرا چکی ہے، جسے گوگل کے جیمینی اور چیٹ جی پی ٹی کے لیے ایک براہِ راست چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ پریپلیکسی نے ایسی چونکا دینے والی پیشکش کی ہو۔ اس سال کے آغاز میں کمپنی نے ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز خریدنے کی بھی کوشش کی تھی، جسے ستمبر تک کسی امریکی خریدار کو فروخت نہ ہونے کی صورت میں ملک گیر پابندی کا سامنا ہے۔
ماہرین کی ایک بڑی تعداد کروم کی ڈیل کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔ کچھ اسے محض تشہیری حربہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر کے مطابق یہ پیشکش کروم کی حقیقی قدر سے کہیں کم ہے۔ تھامسز ٹنگز، جو تھیوری وینچرز سے وابستہ ہیں، کا کہنا ہے کہ کروم کی اصل ویلیو پریپلیکسی کی پیشکش سے "دس گنا زیادہ” ہو سکتی ہے۔
جیوڈتھ میک کینزی، ہیڈ آف ڈاؤننگ فنڈ منیجرز، نے اس آفر کو "بلا طلب” اور "بلا فنڈ” قرار دیا، مگر کمپنی کے حوصلے کی تعریف بھی کی۔ ٹیک انویسٹر ہیتھ آہرنس کا کہنا تھا کہ اگر سیم آلٹمین یا ایلون مسک جیسی شخصیات اس بولی کو تین گنا بڑھا دیں تو یہ اے آئی انڈسٹری کے طاقت کے توازن کو بدل سکتی ہے۔
پریپلیکسی نے گوگل کے سی ای او سندر پچائی کو لکھے گئے خط میں مؤقف اپنایا کہ کروم کو ایک آزاد ادارہ بنا کر صارفین کی حفاظت پر مرکوز کرنا عوامی مفاد میں ہو گا۔ تاہم، گوگل جو اس وقت امریکا میں دو بڑے اینٹی ٹرسٹ مقدمات کا سامنا کر رہا ہے، نے اس امکان کو "غیر معمولی” اور سائبر سکیورٹی کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
پریپلیکسی خود بھی تنازعات سے آزاد نہیں۔ حال ہی میں بی بی سی نے الزام لگایا کہ کمپنی نے اس کا مواد لفظ بہ لفظ بغیر اجازت شائع کیا، جس کی پریپلیکسی نے تردید کرتے ہوئے بی بی سی پر گوگل کی "غیر قانونی اجارہ داری” کا دفاع کرنے کا الزام لگا دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آفر کے حصے کے طور پر، پریپلیکسی نے وعدہ کیا ہے کہ کروم میں گوگل سرچ کو بطور ڈیفالٹ انجن برقرار رکھا جائے گا (صارفین کو اسے بدلنے کی سہولت کے ساتھ) اور کرومیم پلیٹ فارم کی مسلسل سپورٹ بھی دی جائے گی، جو کروم، مائیکروسافٹ ایج اور اوپیرا کو طاقت فراہم کرتا ہے۔ یہ بولی سنجیدہ خریداری کی کوشش ہے یا ایک شاندار پی آر حکمتِ عملی — اس پر بحث جاری ہے۔ لیکن ایک بات طے ہے: پریپلیکسی نے ٹیکنالوجی کی دنیا کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے، اور شاید یہی اصل مقصد تھا