اسلام آباد/نئی دہلی — پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارت کی حکومت نے پاہلگام حملے میں پاکستان کی مبینہ مداخلت کے معاملے پر اپنے عوام کو گمراہ کیا ہے۔
بھارت کے ممتاز صحافی کرن تھاپر کو دیے گئے ایک اہم انٹرویو میں بلاول بھٹو نے نئی دہلی کے مؤقف کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی پاکستان اس حملے میں ملوث ہوتا تو اب تک واضح ثبوت اور ملزمان کے نام سامنے آ چکے ہوتے۔
“بھارتی عوام سے جھوٹ بولا گیا ہے،” بلاول نے انٹرویو میں کہا۔ “اگر پاکستان واقعی شامل ہوتا، تو دنیا کو ثبوت دیے جاتے، بین الاقوامی برادری بھارت کے مؤقف کی تائید کرتی — لیکن ایسا نہیں ہوا۔”
یہ پاکستان کی جانب سے کسی اعلیٰ سیاسی شخصیت کا بھارتی میڈیا کو پہلا انٹرویو تھا جو حالیہ فوجی کشیدگی کے بعد سامنے آیا ہے، جس نے اس گفتگو کو اور بھی اہم بنا دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے واقعے کی غیر جانبدار بین الاقوامی تحقیقات میں شامل ہونے کی پیشکش کی تھی، جسے بھارت نے مسترد کر دیا۔ “آج تک بھارت نے نہ تو پاکستان کو، نہ ہی عالمی برادری کو اور نہ ہی اپنے عوام کو یہ بتایا ہے کہ وہ افراد کون تھے جنہیں وہ پاکستانی دہشت گرد قرار دے رہا ہے؟”
بلاول نے الزام لگایا کہ بھارت کی حکومت اور میڈیا نے کشیدگی کے دوران دانستہ طور پر گمراہ کن بیانیہ اپنایا تاکہ بھارتی عوام کو حقیقت سے دور رکھا جا سکے۔ “یہ سچ کڑوا ہے، مگر اسے بولنا ضروری ہے،” انہوں نے کہا۔ “جب ثبوت موجود نہ ہوں، تو جھوٹے بیانیے ہی سہارا بنتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اگر واقعی کوئی مضبوط ثبوت ہوتا، تو عالمی برادری ضرور بھارت کا ساتھ دیتی — لیکن ایسا نہ ہونا بھارت کے دعووں کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔
انٹرویو کے دوران جب کرن تھاپر نے حافظ سعید اور مسعود اظہر جیسے افراد کی حوالگی سے متعلق سوال پوچھا تو بلاول نے واضح کیا کہ پاکستان تعاون کے لیے تیار ہے—بشرطیکہ بھارت بھی خلوص نیت سے بات کرے اور قانونی طریقہ کار کو اپنائے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ حافظ سعید کو پاکستان میں 2022 میں دہشت گردی کی مالی معاونت کے مقدمے میں 31 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے، جسے بین الاقوامی سطح پر اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
26 نومبر 2008 کے ممبئی حملوں کے معاملے پر بات کرتے ہوئے بلاول نے تسلیم کیا کہ پاکستان میں کیس تاحال مکمل نہیں ہو سکا، جس کی بڑی وجہ بھارت کا عدم تعاون ہے۔ “ہماری عدلیہ کے لیے گواہوں کے بیانات کے بغیر سزا سنانا ممکن نہیں۔ بھارت کی جانب سے گواہوں کو پیش نہ کرنا مقدمے کو روک رہا ہے،” انہوں نے واضح کیا۔
اختتام پر بلاول نے مصالحانہ رویے اور تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو دوبارہ اعتماد اور مکالمے پر مبنی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
“ہمیں ایک ایسے مقام کی طرف بڑھنا ہوگا جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے سے اس سطح پر تعاون کر سکیں کہ ممبئی کے متاثرین کو انصاف ملے — اور خطہ امن کی طرف بڑھے،” بلاول نے کہا۔