پاک-بھارت کشیدگی برقرار، پاکستان نے بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی بندش 23 اگست تک بڑھا دی

اسلام آباد | 19 جولائی 2025

جنوبی ایشیا کے دو ایٹمی قوتوں کے درمیان جاری کشیدگی کی ایک اور مثال سامنے آ گئی ہے، جہاں پاکستان نے بھارتی طیاروں پر اپنی فضائی حدود کے استعمال پر پابندی میں مزید ایک ماہ کی توسیع کر دی ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (PAA) کی جانب سے جمعے کو جاری کردہ نئے نوٹس ٹو ایئرمین (NOTAM) میں کیا گیا۔

یہ پابندی سب سے پہلے 23 اپریل کو نافذ کی گئی تھی، جب لائن آف کنٹرول پر کشیدگی میں اضافہ ہوا اور دونوں ممالک کی قیادت کی جانب سے سخت بیانات سامنے آئے۔ تازہ نوٹیفکیشن کے مطابق، پابندی ان تمام طیاروں پر لاگو رہے گی جو بھارت میں رجسٹرڈ ہیں یا کسی بھارتی ایئرلائن کی ملکیت یا کرائے پر حاصل کیے گئے ہیں۔

ہر قسم کے بھارتی طیارے پابندی کی زد میں

نئی ہدایات کے مطابق، تمام بھارتی سول اور فوجی طیارے — خواہ وہ کمرشل ہوں، نجی ہوں یا دفاعی — پاکستان کی فضائی حدود استعمال نہیں کر سکیں گے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں خطے میں فضائی رابطے متاثر ہونے کے خدشات ہیں، خاص طور پر ان بھارتی ایئرلائنز کے لیے جو یورپ اور مشرق وسطیٰ کی پروازوں کے لیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرتی رہی ہیں۔

بھارتی ایئرلائنز کے لیے مہنگے متبادل راستے

اس پابندی کی توسیع کا مطلب بھارتی ایئرلائنز کے لیے لمبے روٹس، زیادہ ایندھن کی کھپت اور اضافی اخراجات ہیں۔ اب بھارت کے شمالی علاقوں سے یورپ یا مشرق وسطیٰ جانے والی پروازوں کو جنوبی راستوں یا وسطی ایشیا کے ذریعے موڑنا پڑ رہا ہے، جس سے وقت بھی بڑھتا ہے اور لاگت بھی۔

اگرچہ بھارتی حکومت کی جانب سے اس پابندی پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، لیکن ہوا بازی سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے شیڈولنگ اور منافع پر نمایاں اثر پڑ رہا ہے۔ کئی ایئرلائنز پہلے ہی متبادل راستے اپنا چکی ہیں، جب کہ دیگر اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

دوطرفہ تعلقات میں بہتری کے آثار نہیں

پابندی میں توسیع سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاک-بھارت تعلقات اب بھی کشیدہ ہیں، اگرچہ وقتاً فوقتاً سفارتی سطح پر نرم بیانات سننے کو ملتے ہیں۔ NOTAM میں تو کوئی واضح وجہ بیان نہیں کی گئی، لیکن یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب دونوں ملک سرحدی تناؤ، الزامات اور تعطل زدہ مذاکرات کے ماحول میں پھنسے ہوئے ہیں۔

پاکستان اس پابندی کو ایک سیکورٹی اقدام قرار دیتا ہے، جب کہ بھارت فی الوقت اسے ایک عارضی رکاوٹ کے طور پر لے رہا ہے اور اس معاملے کو بین الاقوامی فورمز پر زیادہ نہیں اچھالا گیا۔

ماضی کی بازگشت

یہ پہلا موقع نہیں جب فضائی حدود کو بطور سفارتی ہتھیار استعمال کیا گیا ہو۔ اس سے قبل 2019 میں بالاکوٹ حملوں کے بعد بھی اسی نوعیت کی پابندی لگائی گئی تھی، جو کئی ماہ جاری رہی اور دونوں ممالک کی ایوی ایشن انڈسٹریز کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔

اب، جب کہ 23 اگست کی نئی ڈیڈلائن قریب آ رہی ہے، ہوابازی کے شعبے اور سفارتی حلقوں کی نظریں آنے والے دنوں پر جمی ہیں کہ آیا کوئی بہتری کی امید پیدا ہوتی ہے یا نہیں — لیکن فی الحال، دونوں ملکوں کے درمیان فضا بدستور بند ہے۔

More From Author

سینیٹ نے مخصوص جرائم میں سزائے موت ختم کر دی — خواتین کے خلاف جرائم پر سخت قید کی سزا تجویز

ایل پی جی ٹینکر "گیس فالکن” موزمبیق میں ادائیگی کے تنازع پر تحویل میں — پاکستانی عملہ سمندر میں قید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے