دبئی – اگست 2025:
پاکستانی جُوڈو کھلاڑی ملايکہ نور نے ایک تاریخی سنگِ میل عبور کرتے ہوئے عمان میں منعقدہ ایشین اوپن جُوڈو چیمپئن شپ 2025 میں سلور میڈل اپنے نام کر لیا۔ وہ پہلی پاکستانی خاتون بن گئی ہیں جنہوں نے کسی ایشیائی سطح کے جُوڈو ایونٹ میں پوڈیم تک رسائی حاصل کی۔
20 سالہ ملايکہ نے 52 کلوگرام کیٹیگری میں شاندار مہارت اور پختہ اعصاب کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے سیمی فائنل میں اردن کی رنیم الجزازی کو شکست دے کر فائنل تک رسائی حاصل کی، جہاں ان کا مقابلہ سعودی عرب کی ایک مضبوط حریف سے ہوا۔ بھرپور مقابلے کے باوجود ملايکہ معمولی فرق سے گولڈ میڈل سے محروم رہیں اور سلور میڈل پر اکتفا کرنا پڑا۔ یہ لمحہ نہ صرف ان کے کیریئر بلکہ پاکستان کی کھیلوں کی تاریخ کے لیے بھی ایک یادگار سنگِ میل بن گیا۔
اس کامیابی کو پاکستان میں خواتین کے کھیلوں، بالخصوص مارشل آرٹس اور کانٹیکٹ اسپورٹس کے لیے ایک نیا موڑ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں طویل عرصے سے خواتین کی نمائندگی محدود رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ملايکہ کی یہ کامیابی نوجوان لڑکیوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگی جو بڑے پلیٹ فارمز پر کھیلوں میں اپنا لوہا منوانا چاہتی ہیں۔
ملايکہ اس سے قبل 2024 میں دوشنبے میں ہونے والی ورلڈ جونیئر جُوڈو چیمپئن شپ میں پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہیں اور بتدریج ملک کی اُبھرتی ہوئی باصلاحیت کھلاڑیوں میں اپنی پہچان بنا رہی ہیں۔
پاکستان جُوڈو فیڈریشن کے صدر کرنل جنید عالم نے ان کے کارنامے کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا:
"یہ پوری قوم کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔ ملايکہ کی کامیابی صرف ذاتی نہیں بلکہ ہمارے آنے والے کھلاڑیوں کے لیے اُمید کی کرن ہے۔”
عمان ایونٹ میں دیگر پاکستانی جُوڈوکا کھلاڑیوں نے بھی متاثر کن کارکردگی دکھائی:
- 18 سالہ نور خان، جو بلوچستان اور پاکستان نیوی کی نمائندگی کر رہے تھے، نے 60 کلوگرام کیٹیگری میں اردن کے محمد المشاقبہ کو شکست دی تاہم اگلے راؤنڈ میں برونڈی کے راﺅل بریلانٹ نگنجی سے ہار گئے۔
- محمد عباس خلیل نے 73 کلوگرام کیٹیگری میں اردن کے خادر الورائیکات کو مات دی لیکن پری کوارٹر فائنل میں لبنان کے غدی موسٰی کے ہاتھوں شکست کھا گئے۔
- خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے 17 سالہ نوآموز کھلاڑی نے اپنے ڈیبیو میچ میں اردن کے محمد المسیدن کو ہرایا مگر راؤنڈ آف 16 میں بحرین کے آر۔ پولٹوراتسکی سے شکست کھا گئے۔
ملايکہ نور کا سلور میڈل نہ صرف پاکستان کے وقار کو بین الاقوامی جُوڈو میں بلند کرتا ہے بلکہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ ملک میں خواتین کھلاڑی اب رکاوٹیں توڑ کر نمایاں مقام حاصل کر رہی ہیں۔ ان کا سفر نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کا عکاس ہے اور کھیلوں میں مسلسل سرمایہ کاری اور سرپرستی کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے