اسلام آباد – 1 اگست، 2025:
ملک کی معیشت کے لیے ایک خوش آئند خبر سامنے آئی ہے، جس کے مطابق پاکستان کی مقامی برآمدات میں 3.2 فیصد اضافہ ہوا ہے، اور مالی سال کے اختتام پر یہ برآمدات 31.75 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ گئی ہیں۔ یہ اعداد و شمار وزارتِ تجارت کی جانب سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران جاری کیے گئے۔
یہ اجلاس وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں مختلف شعبوں کی برآمدی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وزیرِ تجارت نے اجلاس کو بتایا کہ بُنے ہوئے کپڑوں کی برآمدات میں 15 فیصد، سلے ہوئے ملبوسات میں 16 فیصد جبکہ گھریلو ٹیکسٹائل کی برآمدات میں 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سب سے نمایاں اضافہ تمباکو اور سگریٹ کی برآمدات میں ہوا، جو 135 فیصد کی شرح سے بڑھی ہیں۔
دیگر شعبے بھی حوصلہ افزا کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ پلاسٹک مصنوعات کی برآمدات میں 17 فیصد جبکہ سیمنٹ کی برآمدات میں 25 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جام کمال نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ ابھرتی ہوئی عالمی منڈیوں کے لیے مخصوص برآمدی منصوبے تیار کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، ایک "ٹریڈ الرٹ سسٹم” کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا تاکہ غیر مرئی تجارتی رکاوٹوں کی فوری نشاندہی اور ان کا بروقت حل ممکن بنایا جا سکے۔
جام کمال نے سیکٹورل ایکسپورٹ کونسلز کو دوبارہ فعال کرنے اور نجی شعبے کے ساتھ مشاورت کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت بھی دی۔ اُن کا کہنا تھا کہ برآمدی منصوبہ بندی میں مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیٹا اینالیٹکس کے زیادہ استعمال کو فروغ دیا جائے تاکہ بین الاقوامی منڈیوں میں بہتر ہدف بندی کی جا سکے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ آئی سی ٹی (ICT)، فری لانسنگ، اور تخلیقی صنعتوں کے لیے ایک قومی برآمدی حکمتِ عملی جلد تیار کی جائے گی، تاکہ ان جدید شعبوں کو عالمی تجارت میں مؤثر طریقے سے شامل کیا جا سکے۔
وزیرِ تجارت نے کاروباری برادری کو یقین دہانی کروائی کہ حکومت نہ صرف سہولیات فراہم کرے گی بلکہ نئی عالمی منڈیوں تک رسائی کو بھی ممکن بنائے گی۔ آخر میں، جام کمال نے اعلان کیا کہ وزارتِ تجارت کی کارکردگی کا جائزہ ہر 15 روز بعد لیا جائے گا، تاکہ نتائج پر مبنی نظام کے تحت ترقی کے عمل کو مؤثر بنایا جا سکے