پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے کوئی امریکی دباؤ نہیں، سفیر رضوان سعید شیخ

امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد پر واشنگٹن کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے کوئی دباؤ نہیں ہے۔

ڈلاس میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے سفیر شیخ نے ملکی و بین الاقوامی امور پر بات کی اور اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کو دوہرایا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر پاکستان کی پالیسی بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے نظریے پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’اسرائیل سے متعلق ہماری پالیسی قائداعظم کے نظریے کے عین مطابق ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مؤقف طویل المدتی اصولوں پر قائم ہے اور کسی بیرونی دباؤ سے متاثر نہیں ہوتا۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عالمی میڈیا میں مسلم ممالک اور اسرائیل کے تعلقات میں تبدیلی سے متعلق قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ پاکستان، جس کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات موجود نہیں، یہ مؤقف رکھتا ہے کہ فلسطینی مسئلے کے منصفانہ حل کے بغیر معمول کے تعلقات ممکن نہیں۔

حالیہ ایران اسرائیل کشیدگی کے دوران بھی پاکستان نے تہران کے اسرائیلی جارحیت کے خلاف دفاع کے حق کی حمایت کی، جو اسلام آباد کے دو ٹوک مؤقف کا عکاس ہے۔

امریکہ اور پاکستان کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے سفیر شیخ نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آ رہی ہے اور تجارت، توانائی اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔

سرمایہ کاری کے مواقع سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس اتنے بجلی کے ذخائر ہیں کہ وہ کرپٹو کرنسی مائننگ جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، جو عالمی ڈیجیٹل معیشت میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔

گزشتہ ماہ حکومت پاکستان نے ڈیجیٹل اور ورچوئل اثاثہ جات کے شعبے کو باقاعدہ بنانے کیلئے ایک جامع ریگولیٹری فریم ورک کی تیاری کا آغاز کیا، جس سے کرپٹو کرنسی کے نظام کو باضابطہ نگرانی میں لانے کا عزم ظاہر ہوتا ہے۔

اس کے بعد پاکستان اور نیویارک دونوں نے کرپٹو کونسلز قائم کیں تاکہ ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے کی ذمہ دارانہ ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

رواں ماہ کے آغاز میں وفاقی کابینہ نے پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے قیام کی منظوری بھی دی، جس کا مقصد ملک میں ڈیجیٹل اثاثہ جات کے شعبے کیلئے قانونی اور ادارہ جاتی بنیادیں فراہم کرنا ہے۔

مالیاتی نظام کو جدید بنانے کی کوششوں کے تحت اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) بھی مرکزی بینک کی ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کیلئے پائلٹ پروگرام شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے اور ورچوئل اثاثہ جات کے قوانین کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

دنیا بھر کے مرکزی بینک، جن میں چین، بھارت، نائجیریا اور خلیجی ممالک شامل ہیں، بلاک چین پر مبنی ادائیگیوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کے پیش نظر ڈیجیٹل کرنسیوں کے اجرا یا آزمائشی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔

More From Author

اسرائیلی حملوں میں 43 فلسطینی جاں بحق، ہلاک ہونے والوں میں آٹھ بچے بھی شامل، جنگ بندی مذاکرات تعطل کا شکار

لاہور اور کراچی کے درمیان جدید بزنس ٹرین چلانے کی تیاریاں مکمل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے