اسلام آباد:
بالآخر سات سال کی طویل تاخیر کے بعد، حکومتِ پاکستان نے پہلی مرتبہ ایک بین الاقوامی فیری سروس کو باقاعدہ لائسنس جاری کر دیا ہے، جس سے کراچی اور گوادر بندرگاہوں سے ایران اور خلیجی ممالک تک براہِ راست سمندری مسافر سروس کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
وزارتِ بحری امور نے پیر کے روز تصدیق کی کہ "سی کیپر” نامی برطانیہ میں قائم ایک فیری آپریٹر کو پاکستان میں سروس کا پہلا لائسنس جاری کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب ایران کے زمینی راستے سے سفر پر اچانک پابندی لگنے کے باعث بڑی تعداد میں زائرین پھنس گئے تھے، جو اربعین امام حسینؑ کے لیے عراق جانا چاہتے تھے۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام فوری طور پر اس وجہ سے کیا گیا تاکہ زائرین کے لیے ایک محفوظ، سستا اور متبادل سفری ذریعہ فراہم کیا جا سکے۔ اس سال تقریباً دس لاکھ پاکستانی زائرین کے اربعین کے موقع پر عراق روانہ ہونے کی توقع ہے۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے اعلان کرتے ہوئے کہا،
"یہ اقدام صرف زائرین کی سہولت کے لیے نہیں، بلکہ خطے میں اقتصادی ترقی، علاقائی ربط اور سمندری سیاحت کو فروغ دینے کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔ یہ ہماری بلیو اکانومی حکمتِ عملی کا اہم جزو ہے۔”
وزارت کے مطابق، ابتدائی مرحلے میں جدید سہولیات سے آراستہ فیری جہاز استعمال کیے جائیں گے تاکہ مسافروں کو محفوظ، باعزت اور کم خرچ سفر مہیا کیا جا سکے۔ مستقبل میں طلب اور بین الاقوامی معاہدات کی بنیاد پر دیگر بندرگاہوں اور راستوں پر بھی توسیع کی جائے گی۔
یہ منصوبہ کئی برسوں سے سرکاری افسرشاہی میں پھنسا ہوا تھا۔ 2017 اور 2018 میں مختلف فیری آپریٹرز کی جانب سے دی گئی درخواستیں سالوں تک بغیر کسی کارروائی کے فائلوں میں دبی رہیں۔ تاہم حال ہی میں بنائی گئی لائسنسنگ کمیٹی، جس میں وزارت دفاع، وزارت خارجہ، داخلہ، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (PNSC) اور دیگر بندرگاہی اداروں کے نمائندے شامل ہیں، نے ان کیسز پر پیش رفت شروع کر دی ہے۔
کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT) کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ کراچی بندرگاہ پر فیری ٹرمینل قائم کیا جا چکا ہے، جو جلد ہی امیگریشن اور پاسپورٹ کنٹرول کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کے حوالے کر دیا جائے گا۔ کسٹمز، سیکیورٹی اور دیگر متعلقہ ادارے بھی عملہ تعینات کریں گے۔
پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (PNSC) بطور ریگولیٹری ادارہ فیری کمپنیز کی تکنیکی نگرانی کرے گا تاکہ تمام حفاظتی معیارات اور آپریشنل ضوابط پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ یہ طویل انتظار کے بعد اٹھایا گیا قدم نہ صرف زائرین کے لیے امید کی کرن ہے بلکہ پاکستان کے لیے ایک مضبوط، مربوط اور سمندری بنیاد پر استوار علاقائی حکمت عملی کی شروعات بھی ہے