پاکستان نے ایس سی او کی انسدادِ دہشتگردی کمیٹی کی چیئرمین شپ سنبھال لی

اسلام آباد: پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے ریجنل اینٹی ٹیررازم اسٹرکچر (RATS) کی چیئرمین شپ سنبھال لی ہے۔ دفترِ خارجہ کے مطابق یہ اقدام پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف کردار اور خطے میں امن کے قیام کے لیے کی گئی قربانیوں کا اعتراف ہے۔

دفترِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایس سی او کے رکن ممالک کا اعتماد اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان انسدادِ دہشت گردی کے سلسلے میں مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ آر اے ٹی ایس تنظیمی سطح پر انٹیلی جنس شیئرنگ، انسدادِ دہشتگردی حکمتِ عملیاں اور مشترکہ سیکیورٹی اقدامات کو مربوط کرنے کی ذمہ داری سنبھالتی ہے۔ اس کا بنیادی ہدف وہ تین خطرات ہیں جنہیں ایس سی او “تین برائیاں” قرار دیتا ہے: دہشتگردی، علیحدگی پسندی اور انتہاپسندی۔

چیئرمین شپ سنبھالنے کے بعد پاکستان سائبر ٹیررازم، بارڈر سیکیورٹی، معلوماتی آپریشنز، استعداد کار میں اضافہ اور دہشتگردوں کی مالی معاونت کو روکنے جیسے اہم شعبوں میں کئی اعلیٰ سطحی اجلاسوں اور سرگرمیوں کی میزبانی کرے گا۔ دفترِ خارجہ کے مطابق: “بطور چیئرمین، پاکستان خطے میں انسدادِ دہشت گردی کے تعاون کو فروغ دے گا، شنگھائی اسپرٹ کی روشنی میں جو باہمی اعتماد، مساوات اور مشترکہ ذمہ داری پر مبنی ہے۔”

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور خطے سمیت دنیا کے امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ ایس سی او میں پاکستان کا نیا کردار ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے 2025-26 کی مدت کے دوران انسدادِ دہشت گردی کے اہم امور پر بھی ذمہ داریاں ادا کر رہا ہے۔

دوسری جانب دفترِ خارجہ نے ترک وزیر دفاع یشار گولر کے حالیہ دورہ پاکستان کی تفصیلات بھی بیان کیں۔ تین روزہ دورے کے دوران انہوں نے وزیرِ اعظم شہباز شریف، وزیر دفاع خواجہ آصف اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقاتیں کیں۔

اس موقع پر دونوں ممالک نے دفاعی اور سیکیورٹی تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، زراعت، آئی ٹی اور ثقافتی تبادلوں سمیت کئی شعبوں میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اسلام آباد میں منعقدہ پاک-ترکیہ مشترکہ وزارتی کمیشن (JMC) کے 16ویں اجلاس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور یشار گولر نے کی۔ اجلاس میں فارماسیوٹیکلز، ای-کامرس، مائننگ، سیاحت اور توانائی جیسے شعبوں میں تعاون کے نئے لائحہ عمل پر بھی اتفاق کیا گیا۔

حکام کے مطابق یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان جاری منصوبوں پر پیش رفت جانچنے اور تاریخی تعلقات کو مزید وسعت دے کر انہیں کثیرالجہتی شراکت داری میں تبدیل کرنے کا موقع ثابت ہوا۔

More From Author

جناح اسپتال میں کینسر کے مریض کا پہلا مصنوعی گھٹنے کا کامیاب آپریشن

کورنگی، ای بی ایم کاز وے کی بندش سے کراچی میں ٹریفک کا نظام مفلوج

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے