اقوام متحدہ – یکم جولائی 2025: پاکستان نے آج جولائی کے مہینے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھال لی ہے۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان کی صدارت شفاف، جامع اور مؤثر ہوگی، اور دنیا کو درپیش اہم ترین چیلنجز پر سنجیدگی سے کام کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ "یہ ایک بڑی ذمہ داری کا لمحہ ہے۔ ہمیں دنیا کے پیچیدہ جیوپولیٹیکل حالات، بڑھتے ہوئے تنازعات اور انسانی بحرانوں کا بخوبی ادراک ہے، اور ہم ایک اصولی، اجتماعی ردعمل کی ضرورت کو پوری طرح سمجھتے ہیں۔ پاکستان کی صدارت امن، بات چیت اور سفارتکاری سے ہماری دیرینہ وابستگی کا مظہر ہوگی۔”
سلامتی کونسل کی صدارت ہر مہینے اس کے 15 رکن ممالک کے درمیان باری باری گردش کرتی ہے۔ پاکستان کی موجودہ صدارت اس کی دو سالہ غیر مستقل رکنیت کا حصہ ہے، جو جنوری 2025 میں شروع ہوئی تھی۔ یہ پاکستان کا آٹھواں موقع ہے کہ وہ سلامتی کونسل کا رکن بنا ہے۔ اس سے قبل پاکستان 2012-13، 2003-04، 1993-94، 1983-84، 1976-77، 1968-69 اور 1952-53 میں بھی کونسل کا رکن رہ چکا ہے۔
اپنے صدارت کے دوران، سفیر عاصم افتخار اقوام متحدہ کے اہم اجلاسوں کی صدارت کریں گے اور دنیا کے مختلف خطوں کے اہم معاملات پر ہونے والی گفتگو کو آگے بڑھائیں گے۔ پاکستان اس مہینے دو اہم نوعیت کے اجلاسوں کی میزبانی بھی کرے گا — ایک بین الاقوامی تعاون اور تنازعات کے پرامن حل کے موضوع پر، اور دوسرا اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے درمیان تعاون کے فروغ پر مبنی ہوگا۔
انہوں نے کہا، "یہ وہ موضوعات ہیں جو پاکستان کے لیے ہمیشہ سے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ ہم نے ہمیشہ پیشگی سفارتکاری اور علاقائی شراکت داری کو عالمی امن کے لیے کلیدی سمجھا ہے۔”
جولائی کے دوران کونسل کے ایجنڈے میں مشرق وسطیٰ کے جاری بحران، افریقہ اور ایشیا کی صورت حال، اور یورپ و لاطینی امریکہ میں ہونے والی پیش رفت شامل ہوں گی۔
سفیر افتخار نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش سے ملاقات بھی کی ہے اور انہیں جولائی کے لیے پاکستان کے مجوزہ پروگرام سے آگاہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی صدارت کو سنجیدگی، تجربے، اور اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں اپنی طویل خدمات کی روشنی میں آگے بڑھائے گا۔
انہوں نے مزید کہا، "پاکستان کو اقوام متحدہ کے 193 میں سے 182 ممالک کی حمایت سے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب کیا گیا — جو ہمارے مؤقف اور خدمات پر عالمی برادری کے اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔ ہم اس اعتماد پر پورا اترنے کے لیے بھرپور کوشش کریں گے، اور سلامتی کونسل کے تمام ارکان کے ساتھ مل کر عالمی امن و سلامتی کو فروغ دیں گے۔”