پاکستان نے آئی ایم ایف کو حالیہ سیلابی نقصانات پر بریفنگ دی، معاشی نقصان 371 ارب روپے، شرحِ نمو کا ہدف 3.9 فیصد تک کم

اسلام آباد — پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو آگاہ کیا ہے کہ حالیہ تباہ کن سیلابوں کے باعث معیشت کو 371 ارب روپے کے بھاری نقصانات اٹھانا پڑے ہیں، جس کے نتیجے میں حکومت نے مالی سال 2025-26 کے لیے شرحِ نمو کا ہدف 4.2 فیصد سے گھٹا کر 3.9 فیصد کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزارتِ خزانہ کے اعلیٰ حکام نے اس ہفتے آئی ایم ایف کے جائزہ مشن کو تفصیلی بریفنگ دی، جس میں نہ صرف تباہ کاریوں کی صورتحال پیش کی گئی بلکہ 26 ارب ڈالر کی بیرونی فنانسنگ ضروریات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ ان میں سے تقریباً 12 ارب ڈالر رول اوور کیے جانے ہیں، جبکہ چین نے ایک بار پھر آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان کی تمام ری فنانسنگ اور رول اوور کی ذمہ داریاں بروقت پوری کی جائیں گی۔

وزارتِ خزانہ نے واضح کیا کہ حکومت کا فی الحال کسی نئے "فلوڈ ٹیکس” یا اضافی محصول عائد کرنے کا ارادہ نہیں ہے، تاہم نقصانات کے اثرات نے معاشی اہداف کو ضرور متاثر کیا ہے۔

تباہی کا خاکہ

سیلابوں نے ملک بھر میں بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا:

  • ہلاکتیں: 1,006 افراد جاں بحق اور ایک ہزار سے زائد زخمی۔
  • رہائش: 12,500 سے زائد مکانات متاثر، سب سے زیادہ تباہی بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں۔
  • انفراسٹرکچر: 2,133 کلومیٹر سڑکیں، 248 پل، 1,098 تعلیمی ادارے اور 128 طبی مراکز متاثر۔
  • زرعی شعبہ: 32 لاکھ ایکڑ سے زائد زیرِ کاشت زمین متاثر، جن میں کپاس، گندم، گنا اور مکئی شامل ہیں۔

کپاس کی پیداوار میں 20 لاکھ بیلز تک کمی کا خدشہ ہے، گندم کی پیداوار میں 13 لاکھ ٹن تک کمی آ سکتی ہے، جبکہ گنے اور مکئی کی فصلیں بھی نمایاں حد تک متاثر ہوں گی۔ مجموعی طور پر زرعی شعبے کو 155 ارب روپے کا نقصان ہوا اور اس کی شرحِ نمو کا اندازہ 4.5 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 4 فیصد رہ گیا ہے۔ صنعتی اور خدماتی شعبوں کی ترقی کی شرح میں بھی معمولی کمی متوقع ہے۔

بیرونی فنانسنگ اور بانڈز

پاکستان نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ وہ رواں مالی سال کے اختتام تک عالمی مارکیٹ میں واپسی کا ارادہ رکھتا ہے اور اپریل تا جون 2026 کے دوران یورو بانڈ کے اجرا پر غور کر رہا ہے۔ تاہم حکام کے مطابق یہ اقدام دو شرائط سے مشروط ہوگا: امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں مزید کمی اور عالمی ریٹنگ ایجنسیوں سے پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری۔

اس سے قبل حکومت نے نومبر 2025 میں چین کی مارکیٹ میں "پانڈا بانڈ” کے اجرا کا منصوبہ بنایا ہے، جس سے 25 سے 30 کروڑ ڈالر تک حاصل کرنے کا ہدف ہے، جبکہ دوسرا مرحلہ اپریل 2026 میں متوقع ہے۔

پاکستان نے یہ بھی بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کے لیے جون 2025 میں انٹربینک مارکیٹ سے 50 کروڑ ڈالر خریدے، جس کے نتیجے میں مجموعی خریداری 7.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

نمو اور قرض کا دباؤ

آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ پاکستان ایک مشکل توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے—ایک طرف سیلابی تباہ کاریوں سے بحالی کی ضرورت ہے تو دوسری جانب بیرونی قرضوں کی بروقت ادائیگی کا دباؤ۔ حالیہ دنوں میں پاکستان نے یورو بانڈ کی مد میں 50 کروڑ ڈالر کی قسط ادا کی ہے، جبکہ ایک ارب ڈالر کی مزید ادائیگی اپریل 2026 میں شیڈول ہے۔

اس وقت حکومت ایک نازک راستے پر چل رہی ہے: شرحِ نمو کے اہداف کو حقیقت پسندانہ سطح پر لاتے ہوئے مالیاتی ساکھ کو برقرار رکھنا اور عالمی قرض دہندگان کے اعتماد کو قائم رکھنا۔

More From Author

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل منیر کی تعریف اُن کے لیے "اعزاز” ہے

کراچی میں ہلکی بارش کا امکان، کم دباؤ کا سسٹم برقرار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے