پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کے ضابطے کے لیے نئی اتھارٹی قائم

اسلام آباد – 12 جولائی 2025: پاکستان کی ڈیجیٹل مالیاتی دنیا کو باضابطہ نگرانی میں لانے کی جانب ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس 2025 پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت ملک بھر میں ورچوئل اثاثہ جات سے متعلق خدمات کی نگرانی اور ضابطہ سازی کے لیے ایک نئی خودمختار اتھارٹی قائم کر دی گئی ہے۔

یہ نئی اتھارٹی — جسے "ورا” (Vara) کا نام دیا گیا ہے — ایک کارپوریٹ ادارے کا درجہ رکھے گی۔ اسے جائیداد خریدنے، معاہدے کرنے اور قانونی چارہ جوئی کرنے کا پورا اختیار حاصل ہوگا۔ آرڈیننس کے نفاذ کے ساتھ ہی یہ قانون ملک بھر میں فوری طور پر لاگو ہو چکا ہے۔

ورا کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ملک میں کرپٹو کرنسی اور دیگر ورچوئل اثاثوں کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت جیسے غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے روکا جا سکے — ایک ایسا خطرہ جو دنیا بھر میں ڈیجیٹل مالیاتی نظام کے بڑھتے ہوئے اثرات کے ساتھ تیزی سے ابھرا ہے۔

ورا کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں ہوگا، جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں اس کے علاقائی دفاتر قائم کیے جا سکیں گے تاکہ موثر نگرانی کو ممکن بنایا جا سکے۔

آرڈیننس کے مطابق، ورا کو وسیع اختیارات حاصل ہوں گے۔ ان میں لائسنس جاری کرنے، معطل کرنے یا منسوخ کرنے کے اختیارات شامل ہیں۔ اتھارٹی ریگولیشنز تشکیل دے گی، نگرانی کرے گی، مشکوک سرگرمیوں کی تحقیقات کرے گی، اور خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے یا دیگر تادیبی کارروائی کا اختیار بھی رکھے گی۔

اتھارٹی کا نظم و نسق ایک بورڈ کے سپرد ہوگا، جس میں ایک چیئرمین اور وزارت خزانہ و وزارت قانون کے دو نمائندے شامل ہوں گے۔ ضرورت پڑنے پر دیگر ماہرین کو بطور مشیر بھی شامل کیا جا سکے گا۔ چیئرمین اور غیر سرکاری اراکین کی مدتِ ملازمت تین سال ہو گی۔

آرڈیننس کے تحت یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کوئی فرد یا ادارہ ورا سے لائسنس حاصل کیے بغیر ورچوئل اثاثہ جات سے متعلق خدمات فراہم نہیں کر سکے گا۔ اس کی خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے اور قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

ورا کی تشکیل پاکستان میں ڈیجیٹل مالیاتی شعبے کے حوالے سے ایک نئے اداراتی دور کا آغاز قرار دی جا رہی ہے، جس کا مقصد جدت، سرمایہ کاروں کے تحفظ، قومی سلامتی اور مالیاتی شفافیت کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔

More From Author

دبئی میں”WOOHOO” ریستوران کی آمد – جہاں مصنوعی ذہانت اور کھانے کا فن یکجا ہوں گے

پنجاب کالونی میں بجلی اور پانی کی بندش پر احتجاج، ٹریفک کا نظام درہم برہم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے