اسلام آباد — حکومت پاکستان ملک کے فوجی ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت “کمانڈر آف ڈیفنس فورسز (CDF)” کے نام سے ایک نیا اعلیٰ فوجی عہدہ قائم کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔ یہ عہدہ مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت متعارف کرایا جا سکتا ہے، جس کا مقصد پاک فوج، بحریہ اور فضائیہ کے درمیان بہتر رابطہ اور مربوط کمانڈ قائم کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق، کمانڈر آف ڈیفنس فورسز ملک کے تمام تینوں فوجی شعبوں کے سربراہ کی حیثیت سے کام کرے گا اور اسے پاکستان کی مسلح افواج میں سب سے اعلیٰ اختیارات حاصل ہوں گے۔ یہ عہدہ موجودہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے بھی بالا ہوگا، جس کے ذریعے دفاعی پالیسیوں اور کارروائیوں میں زیادہ ہم آہنگی اور بروقت فیصلوں کو یقینی بنایا جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو یہ پاکستان کے فوجی نظام میں ایک بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک جن میں امریکہ، چین اور برطانیہ شامل ہیں پہلے ہی ایسے مربوط نظام اپنائے ہوئے ہیں، جن میں تمام افواج ایک مرکزی کمانڈ کے تحت کام کرتی ہیں۔
تاہم، مبصرین خبردار کرتے ہیں کہ اس نوعیت کی اصلاحات کے لیے آئینی تقاضے، سیاسی اتفاقِ رائے، اور نئے عہدے کے اختیارات کی واضح وضاحت انتہائی ضروری ہے تاکہ ادارہ جاتی تصادم سے بچا جا سکے۔
یہ تجویز فی الحال مشاورت کے مرحلے میں ہے، اور کسی حتمی فیصلے سے قبل سول حکومت، مسلح افواج اور آئینی ماہرین کے درمیان تفصیلی غور و فکر کیا جائے گا۔ اگر پارلیمنٹ اس کی منظوری دیتی ہے تو یہ پاکستان کے دفاعی نظام کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔