ڈپٹی وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے بدھ کے روز برسلز میں یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا سے ملاقات کی، جس میں جی ایس پی پلس اسکیم، تجارت کے فروغ اور وسیع تر معاشی تعاون پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب ڈار روس میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس میں شرکت کے بعد ساتویں پاک-یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کیلئے بیلجیم پہنچے۔
دفترِ خارجہ کے مطابق دونوں فریقین نے پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کا جائزہ لیا اور اسے “مثبت سمت میں آگے بڑھتا ہوا” قرار دیا۔ ملاقات میں مختلف شعبوں میں مزید تعاون بڑھانے اور کثیرالجہتی شراکت داری کے عزم کو بھی دہرایا گیا۔
ڈار نے یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کی مسلسل حمایت پر بھی شکریہ ادا کیا، خواہ وہ دو طرفہ سطح ہو یا عالمی اداروں کے پلیٹ فارمز پر۔
اسٹریٹجک ڈائیلاگ اور اہم نکات
ملاقات میں تجارت، معاشی تعاون، علاقائی و عالمی سلامتی اور جی ایس پی پلس سے متعلق امور پر مفصل بحث ہوئی۔
یہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ 2019 کے پاکستان-یورپی یونین اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان کے تحت جاری تعاون کا جائزہ لینے کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے۔
برسلز پہنچنے پر اسحاق ڈار کا استقبال سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ، بیلجیم اور یورپی یونین میں پاکستان کے سفیر رحیم حیات قریشی اور سفارتخانے کے دیگر افسران نے کیا۔
دفترِ خارجہ نے بتایا کہ ڈار، یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور کاجا کالاس کی دعوت پر اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے ساتویں اجلاس کی مشترکہ صدارت کریں گے۔
ڈار چوتھے یورپی یونین انڈو-پیسفک وزارتی فورم میں بھی شرکت کریں گے اور اس موقع پر یورپی حکام سے متعدد دو طرفہ ملاقاتیں بھی طے ہیں۔
دفترِ خارجہ نے ڈار کے دورے کو پاکستان-یورپی یونین تعلقات میں “اہم سنگِ میل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ “جامع اور باہمی فائدے پر مبنی شراکت داری” کو مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔
روس کا دورہ اور ایس سی او اجلاس
برسلز روانگی سے قبل اسحاق ڈار نے ماسکو میں شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔
ایس سی او-سی ایچ جی تنظیم کا دوسرا سب سے بڑا فیصلہ ساز ادارہ ہے، جو معیشت، تجارت، مالیات، رابطہ سازی اور سماجی-اقتصادی ترقی کے شعبوں میں تعاون کی نگرانی کرتا ہے۔
روانگی سے قبل ڈار نے روسی حکومت کی “گرمجوش میزبانی” پر شکریہ ادا کیا اور پاکستانی سفارتخانے اور وزارتِ خارجہ کی ٹیموں کی معاونت کو سراہا۔
دو طرفہ ملاقاتیں
ایس سی او اجلاس کے موقع پر ڈار نے روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف سے بھی ملاقات کی، جس میں دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے تعلقات میں موجود “مثبت رفتار” پر اطمینان کا اظہار کیا۔
علاقائی اور عالمی معاملات پر بھی تبادلۂ خیال ہوا اور اقوام متحدہ سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
ڈار نے قطر کے وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی کے ساتھ غیر رسمی گفتگو بھی کی، جبکہ اس موقع پر روسی وزیراعظم میخائل میشوسٹن اور چینی وزیراعظم لی چیانگ سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔