اسلام آباد:
پاکستان اور بنگلہ دیش نے اتوار کے روز تعلقات کو معمول پر لانے کی جانب ایک بڑا قدم اٹھایا اور تجارت، سفارتکاری، میڈیا، تعلیم اور ثقافتی تبادلوں سے متعلق کئی معاہدوں پر دستخط کیے۔ یہ پیش رفت وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ڈھاکا کے تاریخی دورے کے دوران سامنے آئی، جو کہ 13 سال بعد کسی پاکستانی وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا۔
اسحاق ڈار نے ڈھاکا میں بنگلہ دیشی قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں جن میں چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس اور خارجہ پالیسی کے مشیر توحید حسین شامل تھے۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم بیگم خالدہ ضیا اور جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن سے بھی ملاقات کی۔
یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر گزشتہ برس عوامی لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد، جس کے نتیجے میں تعلقات میں بہتری کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔
چھ اہم معاہدوں پر دستخط
دورے کے دوران چھ معاہدے اور یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جن میں شامل ہیں:
- سفارتکاروں اور سرکاری اہلکاروں کے لیے ویزہ شرائط کا خاتمہ
- دونوں ممالک کی فارن سروس اکیڈمیوں کے درمیان تعاون کا معاہدہ
- ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) اور بنگلہ دیش سانگباد سانستھا (بی ایس ایس) کے درمیان میڈیا تعاون
- دونوں ملکوں کے تھنک ٹینکس کے درمیان شراکت داری کے معاہدے
- تجارتی امور پر مشترکہ ورکنگ گروپ
- 2025 تا 2028 تک کے لیے ثقافتی تبادلوں کا پروگرام
اس کے علاوہ پاکستان نے پاکستان-بنگلہ دیش نالج کوریڈور کے آغاز کا اعلان کیا، جس کے تحت آئندہ پانچ برسوں میں 500 بنگلہ دیشی طلبہ کو اسکالرشپ فراہم کی جائیں گی، جن میں میڈیکل کی تعلیم کے لیے خصوصی کوٹہ بھی شامل ہوگا۔ اسلام آباد نے مزید 100 بنگلہ دیشی سول سرونٹس کے لیے ٹریننگ پروگرام اور پاکستان ٹیکنیکل اسسٹنس پروگرام کے تحت اسکالرشپس کی تعداد 5 سے بڑھا کر 25 کرنے کا بھی اعلان کیا۔
1971 سے آگے بڑھنے کا پیغام
ملاقاتوں کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ماضی کے تنازعات میں الجھنے کے بجائے مستقبل کی جانب دیکھنا چاہتا ہے۔
“1971 کے مسائل پہلے ہی 1974 میں تحریری طور پر حل ہو چکے ہیں اور بعد میں جنرل مشرف نے بھی کھلے عام اور واضح طور پر ان کا اعتراف کیا۔ اسلام ہمیں دل صاف رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ ہمیں آگے دیکھنا ہے اور مل کر کام کرنا ہے کیونکہ دونوں ممالک کا مستقبل روشن ہے،” اسحاق ڈار نے کہا۔
بنگلہ دیش کے خارجہ پالیسی مشیر توحید حسین نے اعتراف کیا کہ اگرچہ پیش رفت ہوئی ہے لیکن 1971 سے متعلق معافی، اثاثوں کے دعوے اور پھنسے ہوئے پاکستانیوں کے مسائل اب بھی موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “یہ توقع رکھنا غلط ہوگا کہ 54 برس پرانے مسائل ایک دن میں حل ہو جائیں گے۔”
“ایک نئی شروعات”
ان اختلافات کے باوجود، اسحاق ڈار نے اپنے ڈھاکا میں ہونے والے مذاکرات کو “انتہائی مثبت” قرار دیا اور کہا کہ دونوں ملکوں نے خاص طور پر تجارت اور معیشت کے شعبوں میں آگے بڑھنے پر مکمل اتفاق کیا ہے۔
“ہمارا مستقبل روشن ہے اور ہمیں اپنی قوموں کے لیے مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔ یہ دورہ دونوں ملکوں کی خلوص نیتی اور تعلقات کو نئے سرے سے شروع کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے،” ڈار نے مزید کہا۔ ڈھاکا میں ہونے والے معاہدے اور اعلانات جنوبی ایشیا کے ان دو دیرینہ حریف ممالک کے درمیان تعلقات میں برف پگھلنے کی علامت سمجھے جا رہے ہیں، اور اسلام آباد کو امید ہے کہ یہ نیا سلسلہ آنے والے برسوں میں مزید گہرے تعاون کی راہ ہموار کرے گا