پاکستان اور بحرین نے تین سال کے اندر تجارتی حجم ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کا اہم ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ اعلان وزیر اعظم شہباز شریف نے بحرین کے دارالحکومت منامہ کے دورے کے دوران کیا۔
اس دورے میں وزیر اعظم نے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ اور ولی عہد سلمان بن حمد آل خلیفہ سے ملاقاتیں کیں، جن میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے طریقے زیر بحث آئے۔ ملاقات میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، خوراک کی حفاظت، تعمیراتی منصوبے، قابل تجدید توانائی اور بندرگاہی رابطوں کو بہتر بنانے جیسے اہم شعبے شامل تھے تاکہ تجارتی سرگرمیوں میں سہولت پیدا کی جا سکے۔
دونوں رہنماؤں نے دفاعی تعاون اور سائبر سیکیورٹی کے موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کیا، جو موجودہ دور میں خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ خطے کی موجودہ صورتحال، بشمول غزہ میں حالات، پر بھی بات ہوئی، جو دونوں ممالک کی عالمی معاملات میں مشترکہ فکر کی عکاسی کرتی ہے۔
پاکستان اور بحرین کے مضبوط تعلقات کے اعتراف میں وزیر اعظم شہباز شریف کو بحرین کا سب سے اعلیٰ سول ایوارڈ، "آرڈر آف بحرین (فرسٹ کلاس)” بھی پیش کیا گیا۔ یہ اعزاز دونوں ممالک کے درمیان احترام اور دیرینہ دوستی کی علامت ہے۔
دونوں ممالک نے عوامی رابطوں کو تعلقات مضبوط کرنے کا بنیادی ستون قرار دیا، اقتصادی اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کے ساتھ۔ اس دورے کو تجارتی تعلقات کو فروغ دینے، شراکت داری کو گہرا کرنے اور مختلف شعبوں میں ترقی کے نئے مواقع کھولنے کے لیے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے، جو بالآخر دونوں ممالک کے شہریوں کے لیے فائدہ مند ہوگا۔