وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور امریکی سیکریٹری تجارت کی ملاقات، مذاکرات جلد مکمل ہونے کی امید*
*اسلام آباد:*
پاکستان اور امریکا نے تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے بامقصد اور فعال بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس بات کا اعلان منگل کے روز جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں کیا گیا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیر، 16 جون کو امریکی سیکریٹری آف کامرس ہاورڈ لٹ نک سے ویڈیو کال کے ذریعے ملاقات کی۔ اس گفتگو میں ٹیرف (محصولات) سے متعلق مسائل پر بات کی گئی اور معاہدے کو حتمی مرحلے تک پہنچانے کے لیے پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
یہ ملاقات پاکستانی وقت کے مطابق رات 9 بجے ہوئی، جس کا مقصد تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون کو مزید بہتر بنانا تھا۔ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جلد ہی تکنیکی سطح پر تفصیلی مذاکرات کا ایک سلسلہ شروع کیا جائے گا، جو ایک باقاعدہ روڈ میپ کے تحت آگے بڑھے گا تاکہ اقتصادی تعلقات کو فروغ دیا جا سکے۔
وزیر خزانہ اور امریکی سیکریٹری تجارت دونوں نے مذاکرات جلد مکمل ہونے کی امید ظاہر کی۔
اسلام آباد میں منگل کے روز ایک تقریب کے دوران وزیر خزانہ نے گزشتہ شب امریکی سیکریٹری سے ہونے والی بات چیت کو مفید اور تعمیری قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک ایک درست راستے پر گامزن ہیں اور اسٹریٹجک شراکت داری کو گہرا کرنے کے لیے مثبت پیش رفت ہو رہی ہے۔
یہ بات چیت امریکا کی جانب سے اپریل میں پاکستان کے ساتھ تجارتی توازن میں 3 ارب ڈالر کے سرپلس کے جواب میں مجوزہ اضافی ٹیرف کے اعلان کے بعد ہو رہی ہے۔ یہ ٹیرف، جو 29 فیصد تک ہو سکتے تھے، فی الحال 90 دن کے لیے مؤخر کر دیے گئے تاکہ مذاکرات کے لیے گنجائش پیدا کی جا سکے۔
30 مئی کو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور امریکی تجارتی نمائندے ایمبیسیڈر جیمی سن گریئر کے درمیان ایک فون کال پر باضابطہ مذاکرات کا آغاز ہوا تھا۔
اس سے قبل مئی کے آغاز میں پاکستان نے امریکا کو تجویز دی تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارتی معاہدہ کیا جائے، جس کے تحت زیرو ٹیرف یعنی محصولات میں مکمل چھوٹ دی جائے۔ اس کے ساتھ پاکستان نے امریکا کو کئی اقتصادی مراعات کی بھی پیشکش کی۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے رائٹرز کو بتایا کہ پاکستان بلوچستان کے مائننگ سیکٹر میں امریکی سرمایہ کاروں کے لیے مراعات دینے کو تیار ہے اور وہ امریکی و مقامی کمپنیوں کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ ان مراعات میں زمینوں کے لیز میں سہولتیں اور سرمایہ کاری کے عمل کو آسان بنانا شامل ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان نے امریکا سے درآمدات بڑھانے کی بھی تجویز دی ہے، خاص طور پر کپاس اور خوردنی تیل جیسے شعبوں میں، جہاں ملک میں قلت پائی جاتی ہے۔
یہ تمام کوششیں دونوں ممالک کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات کا حصہ ہیں۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں پاکستان اور بھارت کے ساتھ "بڑے تجارتی معاہدوں” پر کام کرنے کا ذکر کیا تھا۔
یہ پیش رفت اُس وقت سامنے آئی جب امریکا نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی دہائیوں کی بدترین سرحدی کشیدگی کے بعد جنگ بندی میں ثالثی کا کردار ادا کیا۔